پٹرولیم نرخ روزانہ مقرر کرنے کے تعین پر ڈیلرز دو دھڑوں میں بٹ گئے
لاہور میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین اور ڈیلرز کے مارجن میں اضافے کے معاملے پر پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی، جس کے باعث 15 اگست کو ہڑتال کا اعلان بھی متنازع بن گیا ہے۔ ایک گروپ نے ہفتے کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے گڈز ٹرانسپورٹرز سے اظہار یکجہتی کیا ہے جبکہ دوسرے گروپ نے ہڑتال سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے اسے باہمی مشاورت کے بغیر کیا جانے والا فیصلہ قرار دیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش نے 15 اگست سے ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیلرز گڈز ٹرانسپورٹرز کے مطالبات اور احتجاج میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین اور ڈیلرز کے مارجن سے متعلق مسائل پر مؤثر فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں ہڑتال کی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق تاہم سینٹرل پنجاب اور خیبرپختونخوا سمیت پٹرول پمپ مالکان کی ایک تنظیم نے اس اعلان سے اختلاف کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ہڑتال کا حصہ نہیں بنے گی۔ تنظیم کے مطابق ہڑتال کے حوالے سے مرکزی قیادت نے نہ کوئی باضابطہ اجلاس طلب کیا اور نہ ہی متعلقہ نمائندوں سے مشاورت کی گئی، اس لیے اعلان کردہ ہڑتال میں شرکت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن پنجاب اور خیبرپختونخوا کے نمائندوں نے بھی اپنے مرکزی رہنماؤں کے اعلان سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں نہ ہڑتال کی مدت کے بارے میں اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی اس معاملے پر باقاعدہ مشاورت کی گئی۔ ان کے مطابق کسی بھی اجتماعی احتجاج کا فیصلہ تمام متعلقہ فریقوں کو ساتھ لے کر کیا جانا چاہیے، اچانک ہڑتال کا اعلان کرکے پوری تنظیم کو اس فیصلے کا پابند نہیں کیا جاسکتا۔
دوسری جانب ملک خدا بخش نے ہڑتال کے اعلان کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام معاملات پر مشاورت کرنا کمیٹی کی ذمہ داری ہے، صرف چیئرمین کی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ممکن نہیں کہ کسی فیصلے سے پہلے بالکل مشاورت نہ ہوئی ہو، تاہم وہ 15 اگست کو ہڑتال کے اعلان پر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہفتے کو ہڑتال ہوگی، تاہم اگر اس سے پہلے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کوئی قابل قبول راستہ نکل آیا یا حکومت نے مطالبات سے متعلق تحریری یقین دہانی کرا دی تو صورتحال مختلف ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق ایسی صورت میں ہڑتال کے فیصلے پر نظر ثانی کا امکان موجود ہوگا۔
پٹرولیم ڈیلرز کے درمیان سامنے آنے والے اس اختلاف نے 15 اگست کی مجوزہ ہڑتال کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا کردی ہے۔ ایک جانب ڈیلرز کا ایک دھڑا قیمتوں کے روزانہ تعین، مارجن اور دیگر مطالبات کے لیے احتجاج پر بضد ہے، جبکہ دوسرے گروپ نے باضابطہ مشاورت نہ ہونے کو بنیاد بناتے ہوئے ہڑتال میں شامل ہونے سے انکار کردیا ہے۔
کاروباری حلقوں کے لیے بھی یہ صورتحال اہم قرار دی جارہی ہے، کیونکہ اگر بڑی تعداد میں پٹرول پمپس ہڑتال میں شامل ہوئے تو پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل اور دستیابی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔ تاہم مختلف تنظیموں کے متضاد مؤقف کے باعث 15 اگست کو پٹرول پمپس کی صورتحال کا انحصار آئندہ ہونے والی بات چیت اور ڈیلرز کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کے حل پر ہوگا۔