سندھ کے سرکاری اسپتالوں کو فراہم کی جانے والی ادویات اور کمپنیوں کے ناموں کی فہرست طلب
کراچی: سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے محکمہ صحت سے سندھ بھر کی سرکاری ہسپتالوں کے لئے اربوں روپے کی ادویات فراہم کرنے والی ادویات کمپنیوں کے ناموں کی لسٹ اور ادویات کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
جمعرات کو پی اے سی اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں کمیٹی روم میں ہوا۔اجلاس میں کمیٹی رکن مخدوم فخر الزمان، سیکریٹری صحت طاھر سانگی سمیت میڈیکل سپرنٹنڈنٹس، ڈی ایچ اوز سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ صحت کی سال 2024 اور 2025ع کی آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے محکمہ صحت سے استفسار کیا کے محکمہ صحت کیجانب سے سندھ کے سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی خریداری کس مکینزم کے تحت کی جاتی ہے اور ہسپتالوں میں غیر معیاری ادویات کی فراہمی کی شکایات کیوں موصول ہو رہی ہیں جبکے ادویات کی خریداری کن کمپنیوں سے کی جاتی ہے؟ جس پر سیکریٹری صحت طاھر سانگی نے پی اے سی کو بتایا کے محکمہ صحت 75 فیصد ادویات کی خریداری سینٹرلائیزیشن اور 15 فیصد لوکل سطح پر کرتا ہے اور سیپرا رولز کے تحت جو ادویات کی کمپنیاں ادویات فراہمی کے لئے ٹینڈر میں سلیکٹ ہوتی ہیں ان کمپنیوں سے ادویات خرید کی جاتی ہیں۔
چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے پوچھا کے ہسپتالوں میں غیر معیاری ادویات خریداری کی شکایات آتی ہیں تو ان غیر معیاری ادویات کو کیسے چیک کیا جاتا ہے؟ سیکریٹری صحت نے بتایا کے ڈرگ کنٹرول اتھارٹی اور ہسپتالوں کے فارماسسٹ غیر معیاری ادویات پر چیک رکھتے ہیں۔ چیف ڈرگ انسپیکٹر غلام علی لاکھو نے بتایا کے لیباریٹری ٹیسٹنگ کے بعد ادویات کی خریداری کی جاتی ہے۔
چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کے جن کمپنیوں سے اربوں روہے کی ادویات خرید کی جاتی ہیں ان کمپنیوں کے ناموں پر مشتمل لسٹ اور ادویات کی تفصیلات فراہم کریں۔چیئرمین پی اے سی نے سیکریٹری محکمہ صحت سے استفسار کیا کےسندھ بھر کی کتنی سول ہسپتالوں میں ایم آر آئی مشینیں موجود نہیں ہیں۔
سیکریٹری صحت نے بتایا کے ہر سول ہسپتال میں ایم آئی آر اور سی ٹی اسکین اور ڈائلاسز مشینی موجود نہیں ہی اور سندھ بھر کی تمام ہسپتالوں میں مریضوں کو ریڈیالاجی ٹیسٹنگ کی سھولت کے لئے محکمہ صحت ریڈیالاجی سروسز آؤٹ سورس کرنے جا رہا ہے۔
اجلاس میں جامشورو لمس میں جاپان کی جائکا کمپنی کے فنڈ سے 2020ع میں شروع کئے گئے میٹرنل چائلڈ اور ہیلتھ کیئر سھولیات کے منصوبے کے متعلق حکام 6.4ارب روپے کا آڈٹ کو ریکارڈ فراہم نہیں کرسکے۔اور اجلاس میں منصوبے کے پراجیکٹ کوآرڈینٹر کی غیر حاضری اور آڈٹ ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر پی اے سی نے پراجیکٹ کورآڈینیٹر کے خلاف کاروائی کا حکم دے دیا۔
پی اے سی اجلاس میں جے پی ایم سی کے ایگزیکٹو ڈاریکٹر خالد زر کی عدم شرکت پر پی اے سی نے خالد شر کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا۔ پی اے سی نے محکمہ صحت سے سندھ بھر کی سرکاری ہسپتالوں کے لئے اربوں روپے کی ادویات فراہم کرنے والی ادویات کمپنیوں کے ناموں کی لسٹ اور ادویات کی تفصیلات طلب کرلی۔
پی اے سی اجلاس میں کمیٹی رکن مخدوم فخرالزمان نے محکمہ صحت کے افسران سے استفسار کیا کے ہسپتالوں میں غیر معیاری سرنجز اور سرنجز کے دوبارہ استعمال کی شکایات موصول ہو رہی ہیں جس وجہ سے مھلک بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے اس کو روکنے کے لئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں۔ جس پر چیف ڈرگ انسپیکٹر نے انکشاف کیا کے سندھ کے سرکاری ہسپتالوں کو 55 کمپنیاں سرنجز اور ڈرپ سیٹ فراہم کرتی ہیں جن میں سے 38 کمپنیوں کی سرنجز اور ڈرپ سیٹ کو لیباریٹری ٹیسٹنگ کے بعد غیر معیاری قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے پی اے سی کو مزید بتایا کے غیر معیاری سرنجز اور ڈرپ سیٹ بنانے والی ان 38 کمپنیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی ہیں۔ سردی میں انھیلرز کی شارٹیج کے متعلق استفسار پر چیف ڈرگ انسپیکٹر نے پی اے سی کو بتایا کے ماضی میں مختلف کمپنیاں انھیلرز افغانستان اسمگل کرتی تھی اب اسمگلنگ پر مکمل بندش ہونے کی وجہ سے انھیلرز کی مینیوفیکچرنگ یہاں ہوتی ہے اور انھیلرز اسمگل نہ ہونے کی وجہ سے مارکیٹ میں انھیلرز کی کوئی شارٹیج نہیں ہے۔