امریکی فوج اور ٹرمپ انتظامیہ کے بیانات نے آبنائے ہرمز پر سوالات اٹھا دیے
واشنگٹن: آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال پر امریکی حکام کے مختلف بیانات نے نئی الجھن پیدا کر دی ہے۔
ایک طرف امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اہم بحری گزرگاہ پہلے ہی تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہوئی ہے، جبکہ دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام مستقبل قریب میں اسے مکمل طور پر بحال کرنے کے لیے ممکنہ معاہدے کی بات کر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ ایران کی مبینہ دھمکیوں کے باوجود آبنائے ہرمز کا جنوبی بحری راستہ تجارتی جہازوں کے لیے کھلا ہے۔
سینٹکام کے مطابق گزشتہ 3 ماہ کے دوران امریکی افواج نے ایک ہزار سے زیادہ تجارتی جہازوں کو محفوظ انداز میں اس راستے سے گزرنے میں معاونت فراہم کی، جبکہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان ایسا معاہدہ طے پانے کا امکان ہے، جس کے بعد آبنائے ہرمز مکمل بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دی جائے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی حکام ایرانی قیادت سے رابطے میں ہیں اور انہیں جلد مثبت پیش رفت کی توقع ہے۔
اسکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ مجوزہ انتظام کے تحت ایران تجارتی جہازوں پر کسی قسم کا ٹول ٹیکس عائد نہیں کرے گا اور آزادانہ بحری نقل و حرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔
The southern route through the Strait of Hormuz remains free and open for all commercial vessels seeking to transit the international waterway. Over the past three months, U.S. forces have assisted more than 1,000 vessels in successfully transiting the strait despite unwarranted… pic.twitter.com/TcszH0GimG
— U.S. Central Command (@CENTCOM) August 4, 2026
تاہم امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور عمان کے ساتھ مذاکرات ضرور آگے بڑھے ہیں، لیکن ابھی کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔
اُدھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز جلد مکمل طور پر کھل جائے گی اور اس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگا۔
دوسری جانب ایران نے ان بیانات پر فوری ردعمل نہیں دیا، جبکہ تہران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔
اس طرح واشنگٹن سے آنے والے مختلف مؤقف اس سوال کو مزید تقویت دے رہے ہیں کہ اگر بحری راستہ پہلے ہی کھلا ہے تو نئے معاہدے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔