بحیرہ اسود میں یوکرینی فوجی سامان لے جانے والے 3 کارگو جہاز تباہ کر دیے، روسی وزارت دفاع
ماسکو: روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی مسلح افواج نے بحیرہ اسود میں یوکرینی فوج کے لیے فوجی سامان لے جانے والے 3 کارگو جہازوں کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے، یہ کارروائی یوکرین کے فوجی اور بحری انفراسٹرکچر کے خلاف جاری آپریشنز کا حصہ تھی۔
روسی وزارت دفاع کے مطابق یہ حملے 6 اگست کی شام سے 7 اگست کی صبح کے درمیان انتہائی درستگی کے ساتھ کیے گئے۔ روسی فوجی کمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ روسی افواج نے بحیرہ اسود کے علاقے میں یوکرینی مسلح افواج کے لیے استعمال ہونے والے بحری اثاثوں اور فوجی سپلائی کے ذرائع کو نشانہ بنایا۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد یوکرین کی جانب سے فوجی سازوسامان، گولہ بارود اور دیگر ضروری جنگی وسائل کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والی سمندری سپلائی لائنز کو متاثر کرنا ہے۔
وزارت دفاع کے مطابق روسی افواج یوکرینی فوج کی لاجسٹک صلاحیتوں کو محدود کرنے کے لیے بحری نگرانی، جدید ہتھیاروں اور ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہی ہیں،ڈرونز اور دیگر جدید ذرائع کے ذریعے بحری اہداف کی نشاندہی اور انہیں نشانہ بنانے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے، جس سے روسی جنگی جہازوں کو درپیش ممکنہ خطرات کو کم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
روسی حکام نے دعویٰ کیا کہ بحیرہ اسود میں یوکرینی فوج سے منسلک بحری سرگرمیوں کی نگرانی جاری ہے اور مستقبل میں بھی ایسے اہداف کے خلاف کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔
دوسری جانب روسی وزارت دفاع کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ یوکرینی حکام کی جانب سے بھی اس واقعے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
حالیہ عرصے میں بحیرہ اسود میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں نے خطے میں کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔ روس اور یوکرین دونوں ایک دوسرے کی بحری صلاحیتوں، بندرگاہوں اور سپلائی نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے اثرات علاقائی سلامتی کے ساتھ ساتھ عالمی تجارت پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
روس کی جانب سے یوکرینی فوجی رسد کو نشانہ بنانے کے دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان جنگی محاذوں کے علاوہ سمندری علاقوں میں بھی کارروائیاں جاری ہیں، اس حملے میں ہونے والے نقصان اور متاثرہ جہازوں کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آسکیں۔