|

مارک زکربرگ کی مصنوعی ذہانت کے مستقبل سے متعلق حیران کن پیشگوئی

میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے مصنوعی ذہانت کے مستقبل سے متعلق ایک بڑی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے 5 برسوں میں دنیا بھر کے اربوں افراد اپنے ذاتی مصنوعی ذہانت معاون استعمال کر رہے ہوں گے، جو ان کی ضروریات کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ مختلف معاملات میں ان کی جانب سے خودکار انداز میں خدمات انجام دیں گے۔

میٹا کی سہ ماہی مالیاتی رپورٹ جاری کرنے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مارک زکربرگ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت تیزی سے ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں ہر فرد کے پاس ایک ایسا ذاتی معاون موجود ہوگا جو اس کے اہداف، ترجیحات اور روزمرہ کی ضروریات کو سمجھ کر مسلسل کام کرے گا۔ ان کے بقول ایسا منظرنامہ اب زیادہ دور نہیں اور انہیں یقین ہے کہ یہ تبدیلی آئندہ چند برسوں میں حقیقت بن جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ان ذاتی مصنوعی ذہانت معاونین کی مدد سے صارفین اپنے مالی معاملات، صحت سے متعلق امور، خاندانی تعلقات، روزمرہ منصوبہ بندی اور گھریلو انتظام جیسے متعدد کام زیادہ آسانی اور مؤثر انداز میں انجام دے سکیں گے، یہ معاون 24 گھنٹے صارف کی ضروریات کے مطابق کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔

مارک زکربرگ کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ایک ہی فرد ایک سے زیادہ مصنوعی ذہانت معاون استعمال کرے گا، جن میں ہر معاون مختلف ذمہ داری انجام دے گا۔ اسی وجہ سے پیغام رسانی کی خدمات، خصوصاً واٹس ایپ، آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت سے رابطے کا بنیادی ذریعہ بن سکتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت بھی واٹس ایپ، میٹا کی مصنوعی ذہانت سے استفادہ کرنے والے صارفین کے لیے سب سے نمایاں پلیٹ فارم بن چکا ہے، جبکہ کمپنی اس شعبے میں مزید سرمایہ کاری اور نئی سہولتوں کی تیاری پر توجہ دے رہی ہے۔

میٹا کے سربراہ نے واضح کیا کہ صرف ان کی کمپنی ہی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی دیگر بڑی کمپنیاں بھی ایسے خودکار مصنوعی ذہانت نظام تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں، جو صارفین کی جانب سے مختلف کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

انہوں نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ گوگل اپنی توجہ مخصوص ضروریات کے مطابق تیار کیے جانے والے مصنوعی ذہانت معاونین پر مرکوز کیے ہوئے ہے جبکہ متعدد دیگر ادارے بھی اسی نوعیت کی جدید ٹیکنالوجی پر تیزی سے کام کر رہے ہیں۔

مارک زکربرگ کے مطابق میٹا کے زیرِ تیاری مصنوعی ذہانت معاونین مستقبل کی نئی نسل کی مصنوعات کی بنیاد ثابت ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کو توقع ہے کہ یہی ٹیکنالوجی آنے والے برسوں میں نئی خدمات، بہتر صارف تجربے اور مالی آمدنی میں نمایاں اضافے کا سبب بنے گی، جبکہ مصنوعی ذہانت روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنتی چلی جائے گی۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *