| |

ایران میں امریکی حملے مسلسل تیرہویں رات بھی جاری، نئے اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ

واشنگٹن: امریکا نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں مسلسل تیرہویں رات بھی جاری رہیں، جن کے دوران متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ حملوں کا محور ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز، مواصلاتی نظام، ساحلی نگرانی کے نیٹ ورک اور بحری صلاحیتوں سے متعلق مقامات رہے، جنہیں کامیابی سے ہدف بنایا گیا۔

سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری آمدورفت کو درپیش خطرات میں کمی لانا ہے۔

امریکی کمانڈ کا کہنا ہے کہ عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم اس سمندری راستے پر جہازوں کی نقل و حرکت معمول کے مطابق جاری ہے اور امریکی افواج ان کی معاونت کر رہی ہیں۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ مشرق وسطیٰ کے مختلف حصوں میں اس وقت 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں، جو خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق ایران کے خلاف یہ فوجی کارروائیاں مسلسل تیرہویں رات بھی جاری رہیں اور ان کا مقصد پاسداران انقلاب سے منسوب خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔

دوسری جانب ایران کے مختلف علاقوں سے بھی دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز میں متعدد زور دار دھماکے سنے گئے، جہاں امریکی فضائی حملوں میں 4 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوئے۔

اس کے علاوہ صوبہ مرکزی کے علاقے خنداب کے قریب ایک مقام پر میزائل حملے کی تصدیق کی گئی، تاہم فوری طور پر نقصان کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

رپورٹس کے مطابق صوبہ لورستان کے دارالحکومت خرم آباد کے جنوبی علاقے اور صوبہ ہرمزگان کے ساحلی شہر جاسک میں بھی علی الصبح کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

مقامی حکام نے ان واقعات کی بعض اطلاعات کی تصدیق کی ہے، تاہم متعدد مقامات پر دھماکوں کی نوعیت اور ممکنہ نقصانات کے بارے میں مزید معلومات جاری نہیں کی گئیں، جس کے باعث خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *