| |

نیب مقدمات میں سپریم کورٹ کا دائرۂ اختیار ختم، ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے مقدمات سے متعلق ایک اہم آئینی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ نیب کیسز میں اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں سننے کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس نہیں رہا بلکہ اب ایسے تمام مقدمات وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

تین رکنی بینچ نے جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں محفوظ کیا گیا مختصر فیصلہ سنایا۔ بینچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن بھی شامل تھے۔

عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں قرار دیا کہ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو نیب مقدمات میں اپیلیں یا ضمانت کی درخواستیں سننے کا اختیار حاصل نہیں ہے، آئین کے آرٹیکل 175 اے اور متعلقہ آئینی ترامیم کے تحت نیب سے متعلق تمام مرکزی اپیلیں، ضمانت کی درخواستیں اور دیگر زیر التوا مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل تصور کیے جائیں گے، جہاں ان کی سماعت ہوگی۔

واضح رہےکہ  وفاقی آئینی عدالت کے قیام اور نیب قوانین میں ہونے والی ترامیم کے بعد یہ قانونی سوال پیدا ہوا کہ نیب مقدمات میں اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں کس عدالت میں دائر ہوں گی۔

اسی دوران مختلف ملزمان کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئیں، جن میں بانی تحریک انصاف کی درخواست بھی شامل تھی۔ بانی پی ٹی آئی نے القادر ٹرسٹ ریفرنس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت نہ ملنے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے درخواست پر اعتراضات عائد کرتے ہوئے واپس کر دی تھی۔ رجسٹرار آفس کا مؤقف تھا کہ آئینی ترامیم کے بعد پہلے یہ طے ہونا ضروری ہے کہ آیا سپریم کورٹ کو ایسے مقدمات سننے کا اختیار حاصل بھی ہے یا نہیں۔

اس معاملے پر سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت، نیب اور دیگر فریقین کے دلائل سنے۔ وفاقی حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ آئینی ترامیم اور نیب آرڈیننس میں تبدیلیوں کے بعد نیب مقدمات کی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت ہی سن سکتی ہے جبکہ سپریم کورٹ کا اس معاملے میں دائرۂ اختیار ختم ہو چکا ہے۔

متعدد سماعتوں کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے اب سناتے ہوئے واضح کر دیا گیا ہے کہ نیب مقدمات سے متعلق سپریم کورٹ کے دائرۂ اختیار کا خاتمہ ہو چکا ہے۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد بانی تحریک انصاف سمیت نیب مقدمات میں دائر تمام اپیلیں، ضمانت کی درخواستیں اور دیگر متعلقہ معاملات وفاقی آئینی عدالت میں منتقل تصور کیے جائیں گے، جہاں ان کی سماعت ہوگی۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *