آپ کا وائی فائی سگنل صحت اور نیند کے بارے میں کیا بتا سکتا ہے؟
گھر میں موجود وائی فائی راؤٹر کو عام طور پر صرف انٹرنیٹ چلانے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن سائنس دان اب اس ٹیکنالوجی کو صحت کی نگرانی کے لیے بھی استعمال کرنے پر کام کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہی وائی فائی سگنلز کسی اضافی ڈیوائس کے بغیر انسان کی سانس، نیند اور جسمانی حرکات کا اندازہ لگانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق وائی فائی سے خارج ہونے والی ریڈیو لہریں کمرے میں موجود اشیا اور انسان کے جسم سے ٹکرا کر واپس آتی ہیں۔
مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید سافٹ ویئر ان معمولی تبدیلیوں کا تجزیہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ کوئی شخص سو رہا ہے، جاگ رہا ہے، چل رہا ہے یا اس کی سانس لینے کی رفتار معمول کے مطابق ہے یا نہیں۔
ٹیک ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ بزرگ افراد اور تنہا رہنے والوں کو ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص اچانک گر جائے یا طویل وقت تک غیر معمولی حالت میں رہے تو ایسا نظام فوری طور پر اہل خانہ یا متعلقہ طبی عملے کو خبردار کر سکتا ہے۔
اسی طرح نیند کے معیار اور روزمرہ سرگرمیوں کا ریکارڈ بھی بغیر کسی اسمارٹ واچ یا پہننے والی ڈیوائس کے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نظام میں کیمرے یا مائیکروفون استعمال نہیں ہوتے بلکہ صرف وائی فائی سگنلز میں آنے والی معمولی تبدیلیوں کا تجزیہ کیا جاتا ہے، جس سے روایتی نگرانی کے مقابلے میں نجی زندگی کے تحفظ کے امکانات بہتر سمجھے جا رہے ہیں۔
اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ابھی تحقیق اور آزمائش کے مرحلے میں ہے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے برسوں میں اسمارٹ گھروں، اسپتالوں اور بزرگوں کی نگہداشت کے مراکز میں وائی فائی پر مبنی صحت نگرانی کے نظام عام ہو سکتے ہیں۔ یوں ایک عام انٹرنیٹ راؤٹر مستقبل میں صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ خاموش طبی معاون کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔