ٹرمپ کے امن منصوبے پر پیش رفت کے دعوے کے باوجود اسرائیلی حملے جاری، 28 فلسطینی شہید
غزہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد میں پیش رفت کے اعلان کے باوجود اسرائیلی فوج کی بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملوں میں حالیہ بمباری کے دوران بچوں سمیت مزید 18 فلسطینی شہید ہوگئے، جس کے بعد گزشتہ تین روز کے دوران شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 28 ہوگئی ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی، خان یونس، دیر البلح اور جبالیہ میں رہائشی گھروں پر فضائی حملے کیے، جبکہ طبی مراکز اور ادویات کے گوداموں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے طبی سہولیات مزید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
دوسری جانب جنوبی لبنان میں بھی اسرائیلی حملے جاری ہیں، جن کے نتیجے میں 5 لبنانی فوجی زخمی ہوگئے۔
ادھر غزہ کی وزارت صحت نے اسپتالوں اور طبی مراکز پر حملوں کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت اور طبی تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
خیال رہےکہ اسرائیل کے امریکا کی سرپرستی میں غزہ اور لبنان پر حملے جاری ہیں، جس میں سیکڑوں افراد روز شہید ہوجاتے ہیں، عالمی ادارے امریکا اور اسرائیل کو دہشت گرد قرار دینے کے بجائے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں جبکہ مسلم ممالک بھی صرف مذمتی بیانات کی حدتک محدود ہیں، غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے سبب قحط کی سی صورت حال ہے، عارضی اسپتالوں میں ادویات نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہیں جبکہ غذائی قلت کی بھی شدید کمی ہے۔