عورت، تخلیقِ الٰہی کا زندہ معجزہ
انبیاء و اولیا سے لے کر بادشاہوں، حکمرانوں، علماء ، مفکرین، امیر و غریب تکہر انسان اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک عورت کے ذریعے اس دنیا میں آیا،انسانی زندگی کا سرچشمہ اور وہ لازوال قربانی جس کے بغیر نسلِ انسانی کا تسلسل ممکن نہ تھا۔
اگر انسان کائنات میں اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نشانیوں پر غور کرے تو آسمان، زمین، پہاڑ، سمندر اور بے شمار ستارے دل کو حیرت اور عظمتِ الٰہی سے بھر دیتے ہیں۔ لیکن ان تمام عجائبات کے درمیان ایک ایسا زندہ معجزہ بھی موجود ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہر لمحہ انسانی زندگی کی تجدید فرماتا ہے، اور وہ ہے عورت۔ جب ہم تاریخ کے طویل سفر پر نگاہ ڈالتے ہیں تو عظیم سلطنتیں، فلک بوس عمارتیں، حیرت انگیز سائنسی ایجادات، فلسفیوں کی حکمت، مفکرین کی بصیرت اور فاتحین کی عظمت ہماری آنکھوں کے سامنے آتی ہے۔ انسان ان لوگوں کو تو بڑے احترام سے یاد رکھتا ہے جنہوں نے دنیا کو بدل دیا، مگر اکثر اس ہستی کو فراموش کر دیتا ہے جس کے ذریعے ہر انسان نے اس دنیا میں قدم رکھا۔
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد آنے والے ہر نبی، ہر رسول، ہر ولی، ہر بادشاہ، ہر حکمران، ہر عالم، ہر مفکر، ہر سائنس دان، ہر مزدور، ہر امیر اور ہر غریب اللہ تعالیٰ کے اٹل حکم سے ایک عورت کے رحم کے ذریعے اس دنیا میں آیا۔ عورت محض ایک فرد نہیں، بلکہ پوری انسانیت کی ماں ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ وہ زندہ کڑی ہے جو عدم کو وجود سے ملاتی ہے، اور جس کے بغیر نسلِ انسانی کا تسلسل ناممکن ہوتا۔
تخلیق کا مقدس سفر: اللہ تعالیٰ کا حکیمانہ نظام، اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کے لئے جو نظام مقرر فرمایا، وہ اپنی حکمت میں بے مثال ہے۔ نسلِ انسانی کی بقا نہ کسی کارخانے کے سپرد کی گئی، نہ کسی مشین کے، اور نہ کسی مصنوعی نظام کے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس عظیم امانت کو ایک عورت کے رحم میں رکھا، جو ہر نئے انسان کی پہلی جائے پناہ اور اس کے زمینی سفر کا پہلا مسکن بنتا ہے۔
تقریباً نو ماہ تک ماں اپنے بچے کے ساتھ اپنی غذا، اپنی توانائی، اپنی نیند، اپنی قوت اور اپنی راحت بانٹتی ہے۔ اس پورے عرصے میں اس کا جسم، اس کے جذبات اور اس کی پوری زندگی ایسی تبدیلیوں سے گزرتی ہے جنہیں صحیح معنوں میں صرف وہی عورت محسوس کر سکتی ہے جو اس سفر سے گزری ہو۔ پھر ولادت کا وہ مرحلہ آتا ہے جسے انسانی جسم کی شدید ترین آزمائشوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی اور موت کی باریک سرحد پر کھڑے ہو کر وہ ایک ایسے بچے کو جنم دیتی ہے جس کی روح اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے عطا فرمائی ہوتی ہے۔ یہ وہ قربانی ہے جسے وہ محبت، ایثار اور شفقت کے ساتھ قبول کرتی ہے تاکہ انسانیت کا سفر جاری رہے۔ لیکن اس کی قربانی ولادت پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ وہیں سے ایک نئے امتحان کا آغاز ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس کے جسم کو ایسا نظام عطا فرماتا ہے کہ وہ اپنی غذا کو دودھ میں تبدیل کر کے اپنے بچے کی پرورش کرتی ہے۔ وہ اپنی نیند، اپنی آسائش، اپنا وقت، بلکہ اکثر اپنی خواہشات تک قربان کر دیتی ہے تاکہ اس ننھی جان کی حفاظت، تربیت اور پرورش کر سکے۔ یہ ایسی خدمت ہے جس کی قیمت دنیا کا کوئی خزانہ ادا نہیں کر سکتا۔
طاقت کا حقیقی معیار، اس دنیا میں مرد اکثر اپنی جسمانی طاقت، قوت اور غلبے پر فخر کرتے ہیں۔ لیکن اگر اسی طاقتور مرد کو ایک نومولود بچے کی دن رات دیکھ بھال، اس کی بھوک، بیماری، رونے، جاگنے اور ہر لمحے کی ضرورت کی مکمل ذمہ داری دے دی جائے تو وہ جلد ہی محسوس کر لے گا کہ حقیقی صبر اور برداشت کس چیز کا نام ہے۔ یہ مرد کی کمزوری نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی کامل حکمت کا حصہ ہے۔ حقیقی طاقت صرف جسمانی قوت کا نام نہیں۔ حقیقی طاقت صبر، رحم، برداشت، ایثار، شفقت اور بے لوث محبت کا نام ہے۔ انہی صفات میں بے شمار مائیں ایسی خاموش بہادری کا مظاہرہ کرتی ہیں جسے دنیا اکثر دیکھ ہی نہیں پاتی۔
اللہ تعالیٰ نے بچے کی پرورش کے لئے جس صبر، نرمی، برداشت اور محبت کی ضرورت رکھی، وہ عورت کی فطرت میں ودیعت فرما دی۔ اسی لیے ماں کی آغوش انسان کا پہلا گھر، پہلی پناہ گاہ، پہلی درسگاہ اور محبت کا پہلا تجربہ بن جاتی ہے۔
عورت، صرف ماں ہی نہیں، اگرچہ ماں بننا اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عظیم ترین نعمتوں اور اعزازات میں سے ایک ہے، لیکن عورت کی عظمت صرف ماں ہونے تک محدود نہیں۔وہ ایک بیٹی ہے، جو محبت، شفقت اور تحفظ کی مستحق ہے۔وہ ایک بہن ہے، جو عزت، احترام اور اعتماد کی حق دار ہے۔وہ ایک وفادار بیوی ہے، جو حسنِ سلوک، محبت اور رفاقت کی مستحق ہے۔ وہ علم حاصل کرنے والی ایک طالبہ بھی ہو سکتی ہے، نسلوں کی تربیت کرنے والی ایک معلمہ بھی، مریضوں کی خدمت کرنے والی ایک طبیبہ بھی، معاشرے کی خدمت کرنے والی ایک رہنما بھی، اور ایک کامیاب تاجرہ یا منتظم بھی۔ لیکن ان تمام حیثیتوں سے بڑھ کر وہ اللہ تعالیٰ کی ایک بندہ ہے، جس کی اصل قدر و منزلت اس کے ایمان، کردار، تقوی، علم اور اخلاق سے متعین ہوتی ہے۔عورت کی زندگی کا ہر مرحلہ عزت، مقصد، وقار اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا مظہر ہے۔
قرآنِ مجید کی گواہی، قرآنِ کریم نے عورت، خصوصا ماں کی قربانیوں کو غیر معمولی عزت اور احترام عطا فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ بار بار انسان کو یاد دلاتا ہے کہ وہ اپنی ماں کی مشقتوں اور قربانیوں کو کبھی فراموش نہ کرے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید کی۔ اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری اٹھا کر پیٹ میں رکھا، اور اس کا دودھ چھڑانا دو برس میں ہوا۔‘‘(سورہ لقمان: 14)
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’اس کی ماں نے اسے مشقت کے ساتھ پیٹ میں رکھا، اور مشقت ہی کے ساتھ اسے جنم دیا، اور حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس ماہ ہے۔‘‘(سورہ الاحقاف: 15)
اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے رشتے کی عظمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
’’اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہی میں سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔‘‘(سورہ الروم: 21)
یہ آیات صرف حیاتیاتی حقیقت بیان نہیں کرتیں بلکہ یہ اعلان کرتی ہیں کہ عورت کا احترام، خصوصا ماں کی قربانیوں کی قدر کرنا، ایمان، اخلاق، شکرگزاری اور مہذب انسانی معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
انسانیت کا واحد دروازہ،حضرت آدم علیہ السلام کے بعد سے لے کر آج تک اس زمین پر آنے والا ہر انسان صرف ایک ہی راستے سے اس دنیا میں آیا ہے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک عورت کے رحم کے ذریعے۔ہر نبی، ہر ولی، ہر سائنس دان، ہر مصلح، ہر استاد، ہر مزدور، ہر حکمران اور ہر بادشاہ کبھی ایک بے بس شیر خوار بچہ تھا، جو اپنی ماں کی محبت، حفاظت، صبر اور قربانی پر مکمل طور پر منحصر تھا۔
اگر عورت نہ ہو تو خاندان وجود میں نہیں آ سکتے۔اگر خاندان نہ ہوں تو معاشرے قائم نہیں ہو سکتے۔ اگر معاشرے نہ ہوں تو قومیں وجود میں نہیں آ سکتیں۔ اور اگر عورت نہ ہو تو انسانی تہذیب کا وجود ہی ختم ہو جائے۔یہ کوئی شاعرانہ مبالغہ نہیں۔یہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ اے انسان!کبھی یہ نہ بھول کہ تیرا پہلا گھر ایک عورت کا رحم تھا، اور تیری پہلی معلمہ تیری ماں تھی۔
ضمیر کو جگانے کی ایک دعوت،آج انسانیت، اور خصوصاً مردوں کو، ایک لمحے کے لئے رک کر اپنے ضمیر کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ ہر کامیابی، ہر عزت، ہر مرتبہ، ہر منصب اور ہر کارنامے کی بنیاد اس زندگی پر قائم ہے جس کی ابتدا ایک عورت کی گود اور اس کی قربانی سے ہوئی۔
عورت کا احترام اس پر کوئی احسان نہیں،بلکہ یہ اس عظیم احسان کا معمولی سا اعتراف ہے جس کا قرض انسان کبھی ادا نہیں کر سکتا۔اس کی حفاظت کیجیے۔اس کی عزت کیجیے۔اس سے محبت کیجیے۔اس کی قربانیوں کو تسلیم کیجیے۔ اور اسے وہ مقام عطا کیجیے جو اللہ تعالیٰ نے خود اسے عطا فرمایا ہے۔ جس معاشرے میں عورت کا احترام کیا جاتا ہے وہاں صالح نسلیں پروان چڑھتی ہیں، خاندان مضبوط ہوتے ہیں، اخلاق زندہ رہتے ہیں اور تہذیب ترقی کرتی ہے۔ اور جہاں عورت کی تذلیل کی جاتی ہے وہاں صرف عورت نہیں گرتی، بلکہ پوری تہذیب زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔
ہر مرد کے نام ایک خاموش پیغام،اے انسان!اگر تجھے اپنی طاقت پر فخر ہے تو اپنے آغاز کو یاد رکھ۔ تو کبھی ایک بے بس بچہ تھا، جس کی ہر سانس، ہر دھڑکن، ہر ضرورت اور ہر امید ایک عورت کی محبت، شفقت اور قربانی کی مرہونِ منت تھی۔تیرے جسم کا ہر ذرہ اس کی قربانی کی گواہی دیتا ہے۔تیری زندگی کی ہر کامیابی کی بنیاد اس کے صبر، محبت اور ایثار پر قائم ہے۔ سلام ہو ہر اس نیک ماں پر جس کے قدموں تلے، رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیم کے مطابق، جنت رکھی گئی ہے اور سلام ہو ہر اس عورت پر جسے اللہ تعالیٰ نے انسانی زندگی کی پرورش کا منفرد اعزاز عطا فرمایاوہ تخلیقِ الہی کا زندہ معجزہ ہے اور وہ عظیم دروازہ ہے جس کے ذریعے انسانیت اس دنیا میں داخل ہوتی ہے۔