|

علماء کی امن اپیلیں اور بے رحمانہ سیاسی کردار

آزاد جموں و کشمیر ایک بار پھر ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر ذمہ دار آواز کا فرض بنتا ہے کہ وہ جذبات کو نہیں، بلکہ تدبر، برداشت اور مذاکرات کو فروغ دے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پیش آنے والے افسوسناک واقعات نے نہ صرف کشمیری عوام کو غم و اندوہ میں مبتلا کیا بلکہ پورے پاکستان کے سنجیدہ حلقوں کو بھی تشویش میں ڈال دیا ہے۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے رول 218 کے تحت سینیٹ میں تحریک جمع کرا کر آزاد جموں و کشمیر کی خراب امن و امان کی صورتحال پر ایوان کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس اہم قومی معاملے پر ایوانِ بالا میں فوری ہنگامی بحث کرائی جائے کیونکہ یہ صورتحال فوری پارلیمانی توجہ کی متقاضی ہے۔پارلیمان میں اس آواز کے ساتھ ساتھ ملک کی مذہبی قیادت کی جانب سے بھی انتہائی ذمہ دارانہ مؤقف سامنے آیا ہے۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظمِ اعلیٰ اور جامعہ خیرالمدارس ملتان کے مہتمم شیخ الحدیث مولانا محمد حنیف جالندھری نےتمام متعلقہ فریقوں سے تحمل، بردباری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ آزاد کشمیر کے داخلی معاملات کو اس انداز میں سنبھالا جائے کہ مسئلۂ کشمیر کے بنیادی قومی مؤقف کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔ یہ اپیل صرف ایک مذہبی رہنما کی آواز نہیں بلکہ اس قومی احساس کی ترجمانی ہے جو ہر درد مند پاکستانی کے دل میں موجود ہے۔اسی طرح باغ سے آنے والی اطلاعات بھی امید کی ایک کرن دکھاتی ہیں۔ راولاکوٹ میں عوامی ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ کے دوران پیش آنے والے افسوسناک واقعات، شیلنگ اور قیمتی جانوں کے ضیاع کے بعد باغ کے تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے جید علماء کرام کا ایک ہنگامی اجلاس مرکزی جامع مسجد باغ میں مرکزی خطیب مولانا سید عطاء اللہ شاہ کی میزبانی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں شریک علماء نے نہایت سنجیدگی سے موجودہ حالات کا جائزہ لیا اور متفقہ طور پر اس نتیجے پر پہنچے کہ طاقت اور تصادم کسی بھی مسئلے کا حل نہیں۔اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں حکومتِ پاکستان، حکومتِ آزاد کشمیر اور عوامی ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران سے مطالبہ کیا گیا کہ حالات کو مزید کشیدہ ہونے سے بچایا جائے،
ہر قسم کی افراتفری اور تصادم سے گریز کیا جائے اور تمام اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ اعلامیے میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے جائز مطالبات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور انہیں قومی یکجہتی، باہمی احترام اور افہام و تفہیم کے ماحول میں حل کیا جائے تاکہ آزاد کشمیر میں امن، بھائی چارہ اور استحکام برقرار رہ سکے۔علماء کرام نے نہ صرف امن کی اپیل کی بلکہ عملی اقدام کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آزاد کشمیر میں امن، اتحاد اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے جلد باغ شہر میں ایک عظیم الشان امن مارچ منعقد کیا جائے گا تاکہ پوری دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ کشمیری عوام تشدد نہیں بلکہ امن، رواداری اور باہمی احترام پر یقین رکھتے ہیں۔خادم قرآن مولانا عبدالوحید کشمیری کو قوم کے بچوں اور بچیوں کی تعلیمی خدمت کرتے پچاس برس ہونے کو ہیں،جمعرات کی صبح ان سے ملاقات ہوئی تو بڑی دلگرفتی سے کہا کہ ہاشمی صاحب!میرے کشمیر میں، میرے بچوں کا خون بہایا جا رہا ہے،ہم نے تو سرینگر لینا تھا ،لیکن حکومت کی نااہلی سے آج یہ دن آن پہنچا کہ راولاکوٹ میں خونی مناظر نظر آ رہے ہیں،یہ بات یاد رکھیں کہ دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں اور پاکستانیوں کو جدا نہیں کر سکتی،یہ خاکسار ادارہ معارفِ القرآن کے بانی کے پر انوار چہرے کو بغور دیکھ رہا تھا،کہ جہاں پاکستانی اور کشمیری دونوں رنگ جھلملا رہے تھے،یہ سب دیکھ کر مجھے طارق فضل چوہدری،خواجہ آصف اور رانا ثناءاللہ جیسے وزیروں مشیروں پر بڑا ترس آیا،حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کے علماء نے ہر نازک موقع پر مصالحت، برداشت اور قومی یکجہتی کا کردار ادا کیا ہے۔ اس سے قبل بھی باغ کے بزرگ اور باوقار عالم دین مولانا امین الحق کی قیادت میں جید علماء کا ایک وفد اسلام آباد آیا اور راولاکوٹ کے مسئلے کے پرامن حل کے لیے ممتاز علماء اور مختلف قومی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ اسی طرح جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا سعید یوسف اور مولانا امتیاز عباسی بھی مسلسل اس بحران کے حل کے لیے سرگرم رہے۔ یہاں تک کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے مولانا فضل الرحمٰن کو بھی ثالث کے طور پر قبول کرنے کا اعلان کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیری عوام آج بھی ایسے غیر جانب دار کردار کی تلاش میں ہیں جو اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے ختم کر سکے۔البتہ اس تمام صورتحال میں ایک سوال مسلسل ذہنوں میں گردش کر رہا ہے کہ وفاق میں اقتدار کی دو بڑی شریک جماعتیں، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)، اس حساس مرحلے پر کس کردار میں نظر آئیں؟ عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ جب کشمیر میں خون بہہ رہا تھا، مظاہرین آنسو گیس، لاٹھی چارج اور تصادم کا سامنا کر رہے تھے، اسی وقت انتخابی مہم، کامیابی کی خوشیاں اور شکست کے غم کیوں غالب رہے؟ کیا ایسے حالات میں سیاسی سرگرمیوں سے بڑھ کر امن کے قیام کو ترجیح نہیں دی جانی چاہیے تھی؟بعض سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ اگر دونوں بڑی جماعتیں واقعی اس بحران کے حل میں سنجیدہ ہوتیں تو کم از کم اس وقت تک انتخابی سرگرمیوں کو مؤخر کرنے پر غور کرتیں جب تک مذاکرات کے ذریعے حالات معمول پر نہ آجاتے۔ اگرچہ اس رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ایسے مواقع پر عوام سیاسی نعروں سے زیادہ عملی کردار کو دیکھتے ہیں۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتِ آزاد کشمیر، وفاقی حکومت، عوامی ایکشن کمیٹی، سیاسی جماعتیں، مذہبی قیادت اور سول سوسائٹی سب ایک میز پر بیٹھیں۔ کسی بھی فریق کی انا، ضد یا سیاسی مفاد انسانی جانوں سے زیادہ اہم نہیں ہو سکتا۔ کشمیر کا امن صرف کشمیری عوام کی ضرورت نہیں، بلکہ پورے پاکستان کی قومی ذمہ داری ہے۔مولانا محمد حنیف جالندھری، مولانا امین الحق اور باغ کے دیگر جید علماء کرام اور دیگر مذہبی و سماجی شخصیات نے جس تدبر، حکمت اور خیر خواہی کے ساتھ مذاکرات اور امن کی اپیل کی ہے، وہ قابلِ تحسین بھی ہے اور قابلِ تقلید بھی۔ اب یہ ذمہ داری حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی دونوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ان خیر خواہانہ آوازوں کو سنیں، مذاکرات کی میز پر آئیں، عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور ایسا حل تلاش کریں جو انصاف، امن اور باہمی اعتماد پر مبنی ہو۔یہ وقت الزام تراشی کا نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے کا ہے۔ یہ لمحہ سیاسی برتری ثابت کرنے کا نہیں بلکہ انسانی جانوں کو بچانے کا ہے۔ اگر آج بھی تدبر، برداشت اور مکالمے کا راستہ اختیار نہ کیا گیا تو نقصان صرف ایک فریق کا نہیں بلکہ پورے کشمیر اور پاکستان کا ہوگا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آزاد جموں و کشمیر سمیت پورے پاکستان کو امن، استحکام، اتحاد اور خیر و سلامتی کی نعمت سے مالا مال فرمائے، تمام فریقین کو حکمت، بصیرت اور تحمل عطا فرمائے اور اس خوبصورت خطے کو ہمیشہ امن، محبت اور بھائی چارے کا گہوارہ بنائے رکھے۔ آمین۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *