| |

محسن نقوی کی کارکردگی، ساڑھے تین سالہ سفر میں نمایاں کامیابیاں

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ساڑھے تین سالہ سیاسی و انتظامی ذمہ داریوں کو ان کے مکمل کیے گئے ترقیاتی منصوبوں اور عملی کارکردگی کے تناظر میں اجاگر کیا جا رہا ہے۔

محسن نقوی نے بطور نگران وزیراعلیٰ پنجاب مختصر مدت میں ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل پر توجہ مرکوز رکھی۔ ان کے دور میں مختلف بڑے منصوبوں پر تیزی سے کام کیا گیا، جن میں گلشنِ راوی، سمن آباد انڈر پاس اور اکبر چوک فلائی اوور و انڈر پاس نمایاں ہیں۔

دستیاب معلومات کے مطابق گلشنِ راوی، سمن آباد انڈر پاس سے روزانہ 2 لاکھ سے زائد گاڑیاں مستفید ہو رہی ہیں، جبکہ اکبر چوک فلائی اوور اور انڈر پاس کو روزانہ تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار گاڑیوں کی آمدورفت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا۔

محسن نقوی کی انتظامی طرزِ کار میں منصوبوں کی نگرانی، مقررہ مدت میں کام مکمل کرنے اور عملی نتائج پر توجہ کو نمایاں قرار دیا جاتا ہے۔ نگران وزیراعلیٰ پنجاب کے منصب کے بعد وفاقی وزیر داخلہ کی حیثیت سے ان کی ذمہ داریوں کا دائرہ بھی مزید وسیع ہوا۔

بطور وفاقی وزیر داخلہ انہیں اندرونی سلامتی، امن و امان، سرحدی انتظامات اور قومی سطح پر مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری جیسے اہم معاملات کی نگرانی کی ذمہ داری حاصل ہے۔

محسن نقوی کی کارکردگی کے حوالے سے پیش کیے جانے والے مؤقف میں یہی نکتہ نمایاں ہے کہ قیادت کو صرف مدت سے نہیں بلکہ عملی نتائج سے جانچا جانا چاہیے۔ مختلف عہدوں اور مختلف نوعیت کی ذمہ داریوں کے باوجود ترقیاتی کاموں کی تکمیل، انتظامی نگرانی اور نتائج کے حصول کو ان کے طرزِ کار کا اہم حصہ قرار دیا جاتا ہے۔

ان کے حامیوں کے مطابق محسن نقوی کا انتظامی انداز سخت اہداف مقرر کرنے، منصوبوں پر براہِ راست نظر رکھنے اور انہیں تیزی سے مکمل کرنے پر مبنی ہے، جبکہ وفاقی سطح پر ان کی ذمہ داریوں نے اس کردار کو مزید وسیع کر دیا ہے۔

یوں پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں سے لے کر وفاقی سطح پر داخلی سلامتی اور قومی رابطہ کاری تک، محسن نقوی کے سیاسی و انتظامی سفر میں کام، نتائج اور ذمہ داری کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *