دنیا بھر کے مسلمان بدترین مظالم و جارحیت کا شکار ہیں‘شجاع الدین شیخ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) تنظیم اسلامی کے زیر اہتمام ملک گیر مہم بعنوان ’’ امت مسلمہ کی حالت زار اور راہ نجات‘‘کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔اس سلسلے میں امیر تنظیم اسلامی شجاع الدین شیخ نے جمعہ کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امت مسلمہ کو درپیش موجودہ بحرانوں، زوال کے اسباب اور قرآن و سنت کی روشنی میں راہِ نجات کو تفصیلی طور پر پیش کیا۔انہوںنے امت کے موجودہ حالات پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب امت کا قرآنِ مجید سے تعلق کمزور پڑا، اس کے معانی و مقاصد سے دوری بڑھی اور عمل کی روح رخصت ہو گئی، تو اسلام کا ہمہ گیر تصور بھی ذہنوں سے اوجھل ہو گیا۔ یوں دین اسلام محض چند عبادات اور روایتی رسومات تک محدود ہو کر رہ گیا۔ اس کا دردناک نتیجہ یہ نکلا کہ آج تقریباً 57 مسلم ممالک کے بیش بہا وسائل، زرخیز زمینوں اور کثرتِ آبادی کے باوجود غزہ، لبنان، فلسطین، کشمیر، افغانستان اور دیگر خطوں میں مسلمان بدترین مظالم اور جارحیت کا شکار ہیں۔ تمام تر وسائل کے باوجود مسلم حکمران اور قومیں عالم کفر کے مظالم کے خلاف کوئی موثر آواز اٹھانے یا عملی قدم اٹھانے سے قاصر دکھائی دیتی ہیں۔ نبی اکرمؐ نے اپنے ارشادِ مبارک میں امت کی اس کیفیت کی پیش گوئی فرماتے ہوئے متنبہ فرمایا تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب امت تعداد میں کثرت کے باوجود سمندر کے جھاگ کی مانند وزن اور اثر و رسوخ سے محروم ہو جائے گی اور دشمن اقوام ان پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گی جیسے بھوکے دسترخوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔شجاع الدین شیخ نے اس بات پر زور دیا کہ امت مسلمہ کو درپیش ان تمام مسائل اور ذلت و رسوائی کا واحد اور حتمی حل صرف اور صرف قرآنِ حکیم سے فکری، عملی اور اجتماعی تعلق کی بحالی میں مضمر ہے۔ اللہ رب العزت نے سورۃ آلِ عمران میں واضح ہدایت فرمائی ہے کہ ’’اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو‘‘۔ یہی قرآنِ مجید وہ زندہ اور جاوید کتاب ہے جو انسانیت کو صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی کرتی ہے اورامت مسلمہ کا نشاۃِ ثانیہ کا آغاز بھی اسی نقطے سے ہوگا جہاں سے اس کا عروج شروع ہوا تھا، یعنی تجدیدِ ایمان، قرآنِ حکیم سے زندہ تعلق کی بحالی اور اسوہ حسنہ کی کامل پیروی۔تنظیم اسلامی کے امیر نے پریس کانفرنس کے اختتام پر تمام مسلمانانِ عالم، بالخصوص پاکستان کے اہل اقتدار ،عوام اور اہل علم و دانش سے اپیل کی کہ وہ اس عظیم مقصد کے لیے جدو جہد کریں۔انہوں نے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسلمانوں کی نجات دنیا پرستی چھوڑنے، حقیقی ایمان بیدار کرنے اور اسلامی اصولوں کو ہر سطح پر نافذ کرنے میں ہی ممکن ہے۔ اگرامت مسلمہ اس راستے کو اختیار کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی نصرت اور فتح اس کا مقدر بنے گی۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *