مسائل کے حل کیلیے نئے انتظامی یونٹس کے بجائے کچھ نیا کر نا ہو گا
کراچی (رپورٹ :قاضی جاوید ) چیئر مین پی ٹی آئی بیر سٹرگوہر نے جسارت کے سوال کیا نئے صوبے پاکستانی انتظامی امور کی بہتری کیلیے ضروری ہیں ؟ کے جواب میں کہا کہ ایسا پہلے بھی کہا جاتا رہا ہے کہ ملک کے مسائل کو حل کر نے کے لیے کچھ نیا کر نا ہو گا اور اس کی فوری ضرورت ہے ۔ انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مارشل لاء کی ملک کو کبھی بھی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی آج ضرورت ہے لیکن ایک قومی حکومت کی فوری ضرورت ہے ۔تاکہ نئے انتخابات کرائے جا سکیں ۔ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو بھی اس قومی حکومت میں شامل کیا گیا تو اس پر غور کر یں گے ۔ ایک اور سوال کہ محسن نقوی کی تجویز سے پی ٹی آئی حمایت کر تی ہے کے جواب میں انھوںنے کہا کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس سے تو شاید کسی بھی سیاسی جماعت کو انکار نہیں ہے ۔ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ یہ بات کسی حد تک ٹھیک ہے پی پی پی اور “ن”لیگ نے ایسا نہیں کیا تحریِکِ انصاف کو موقع ہی نہیں دیا گیا کہ وہ کچھ کر سکے ۔ اقتدار جب تک نچلی سطح نہیں آئے گا عوام کے مسائل حل نہیں ہو ں گے ۔معروف صحافی اینکرنجم سیٹھی نے جسارت کے سوال کیا نئے صوبے پاکستانی انتظامی امور کی بہتری کیلیے ضروری ہیں ؟کے جواب میں کہا کہ اس کی ضرورت ہے۔ اس پر جس قدر جلدی عمل کیا جائے گا عوام کے مسائل فوری جلد حل ہو ں گے ۔ ایک کراچی کو ہی لے لیں ایک وقت یہ ایک ایک عالمی شہر تھا۔ جب دبئی اور دیگر خلیجی ملک میں ایک ریت ریت ہی کا سمندر نظر آتا تھا کراچی میں 50سے زائد دنیا بھر کی ہو ا ئی کمپنیز کے جہاز لینڈ کر تے تھے اس شہر میں دنیا کے بڑے بڑے بینکس اپنی بڑی بڑی برانچز کھولتے تھے ۔ روشنیوں کے شہر ایم کیو ایم ،اور پی پی پی سیاسی حکومت نے تباہ کر کے رکھ دیا ہے ۔ ایم کیو ایم ،اور پی پی پی سیاسی حکومت کر اچی کو تباہ کر نے کی ذمہ دار ہیں ۔ وہاں کی عوام کو ہر طرح کی سہولت سے محروم کیا گیا ہے اور آئندہ بھی کراچی کو سیاسی پارٹیاں ترقی دینے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہیں ۔اس علاوہ جنوبی پنجاب ،ہزارہ ،رحیم یار خان اور دیگر علاقوں کی حالت بھی تباہ ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پی پی پی اور “ن” لیگ محسن نقوی کی تجویز سے کبھی اتفاق نہیں کریں گئیں اور عوام کو ملنے والی منصوبوں کی رقم کو عوام پر خر چ نہیں ہو نے دیں گے ۔عوامی منصوبے کے تمام فمڈز کو دونوں پارٹیوں کے ارکان اپنی جیبوں ڈال لیں گئیں اور عوام کو کچھ نہیں ملے گا ۔ پی پی پی کے رہنما ندیم افضل چن نے جسارت کے سوال کیا نئے صوبے پاکستانی انتظامی امور کی بہتری کیلیے ضروری ہیں ؟کے جواب میں کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے درست کہا کہ ایسا پہلے بھی کہا جاتا رہا ہے ۔ ان سب باتوں کا مقصد صرف سیاسی پارٹیوں کو خوفزدہ کر نا ہے ۔یہ ٹھیک ہے کہ ملک میں عوام کو سہولت کا فقدان ہے ان کے مسائل کو حل کر نے کے لیے کچھ نیا کر نا ہو گا لیکن اس کے لیے ملک کی تمام پورٹیوں مل کر کام کر نا ہو گا ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ آپ کی یہ بات درست ہے کہ پی پی پی ـ”ن”لیگ اور تحریک ِ انصاف بھی نچلی سطح تک اختیارات کو منتقل کرنے میں یکسر محروم رہے ہیں ۔ کہ اسٹیبلشمنٹ نے سیاسی پارٹیوں کو ٹھیک سے حکومت کر نے ہی دیا ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں انھوںنے کہااکہ ساری ذمہ داری اسٹیبلشمنٹ پر نہیں ہے اور کسی نہ کسی طور پر اس میں سیا سی پارٹیاں بھی اقتدار کے اُکھاڑ پطھاڑ شامل ہیں۔سیاسی پارٹیوں کو اس روش کو تبدیل کر نا ہو گا۔