بی آر ٹی یلو لائن کیس، ضمیر عباسی کی ضمانت پر فیصلہ مؤخر
کراچی( اسٹاف رپورٹر)بی آر ٹی یلو لائن میں مبینہ طور پر ساڑھے آٹھ ارب کی کرپشن کا کیس ،عدالت نے ضمیر عباسی کی درخواست ضمانت پر سماعت 12 اگست تک ملتوی کردی ۔سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی درخواست ضمانت پر سماعت سندھ ہائی کورٹ میں ہوئی جہاں ان کے وکیل کا اپنے دلائل میں کہناتھا کہ سرکاری وکیل نے ٹرائل کورٹ میں درخواست ضمانت پر نو آبجیکشن دیا تھا ،ضمیر عباسی ایک بیوروکریٹ اور قابل افسر ہیں ،عدالت نے استفسار کیاکہ کیا خرد برد ہوئی ہے ؟ وکیل کاکہنا تھا کہ کوئی خرد برد نہیں ہوئی ایڈوانس ادائیگی کا الزام ہے ،کس کو کیا فائدہ ہوا کسی کنٹریکٹر کو ملزم ہی نہیں بنایا گیا ہے ،تین کنٹریکٹرز ہیں کسی کو بھی ملزم نہیں بنایا گیا نا ہی گواہ بنایا گیا ہے ،کیا ضمیر عباسی ڈسپریسنگ اتھارٹی تھے ؟ عدالت کاکہنا تھا کہ سرکاری وکیل نے نو ابجیکشن دیا گیا ہے میں بھی سولہ سال سرکاری وکیل رہا ہوں ؟ پتہ نہیں یہ کرپشن کیسے پتہ نہیں کیسے بنائے جاتے ہیں ؟ کیا سی ایم آئی ٹی نے مقدمہ درج کرایا تھا ؟ اینٹی کرپشن کے کیسز میں مدعی تفتیشی افسر ہوتا ہے ،اس کیس میں کوئی متاثرہ فریق نہیں ہے ،کیا یہ کام مکمل ہوچکا ہے، وکیل کاکہنا تھا کہ ضمیر عباسی سے پہلے کام بہت سست روی سے چل رہا تھا ،ابھی بھی ایڈوانس ادائیگیاں کی جارہی ہیں ،ورلڈ بینک سے پیسے آرہے ہیں وہ جلدی جلدی نکال کر کام کروا رہے ہیں ،مجھے حوالات میں رکھنے کا اب کوئی جواز نہیں ہے ،عدالت نے استفسار کیا کہ کس وجہ سے ضمیر عباسی کو ضمانت دیں ؟ ملزم کے و کیل کاکہنا تھا کہ کوئی خرد برد کا الزام نہیں ہے،عدالت نے ضمیر عباسی کی درخواست ضمانت پر سماعت 12 اگست تک ملتوی کردی۔