صرف منٹ کی
|

صرف 3 منٹ کی شدید ورزش طویل دورانیے کی سائیکلنگ سے زیادہ مؤثر، نئی تحقیق

واشنگٹن: صرف تین منٹ کے مختصر دورانیے کی شدید ورزش آپ کے لیے طویل دورانیے کی سائیکلنگ سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔

جدید سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ورزش کے لیے روزانہ گھنٹوں کا وقت نکالنا اب لازمی نہیں رہا، کیونکہ محض چند منٹ کی انتہائی تیز اور شدید جسمانی سرگرمی بھی جسم میں نمایاں اور مثبت حیاتیاتی تبدیلیاں پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

ایک مؤقر سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ماہرین نے شدید ورزش کے بعد خون میں موجود سیکڑوں پروٹینز میں ہونے والی تبدیلیوں کا بغور مشاہدہ کیا ہے۔

ان تبدیلیوں کا براہِ راست تعلق انسانی دل، میٹابولزم، جسمانی چربی اور مجموعی صحت کے اہم پہلوؤں سے ہے۔

تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے مختصر دورانیے کی ہائی انٹینسٹی سائیکلنگ اور معمول کی رفتار سے کی جانے والی ورزش کے اثرات کا موازنہ کیا ہے۔

اس تجربے میں شرکا نے 30 سیکنڈ کے شدید رفتار والے سائیکلنگ وقفے کیے جن کے درمیان چار منٹ کا آرام دیا گیا تھا۔

نتائج سے یہ ثابت ہوا کہ شدید ورزش کے بعد خون میں 714 پروٹینز میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں، جبکہ اس کے مقابلے میں معمول کی رفتار سے کی گئی طویل سائیکلنگ کے بعد صرف 7 پروٹینز میں ہی ایسی تبدیلی دیکھنے میں آئی، جس سے ورزش کی شدت کا اثر واضح ہوا۔

محققین نے کہا کہ شدید ورزش کے دوران جسم میں مختلف کیمیائی سگنلز فعال ہوجاتے ہیں جن میں لییک-فی (Lac-Phe) نامی مالیکیول بھی شامل ہے۔

یہ مالیکیول ورزش کے بعد بھوک کے احساس اور توانائی کے استعمال کے حیاتیاتی عمل کو کنٹرول کرنے میں ایک انتہائی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

سائنس دانوں نے مزید کہا کہ تحقیق میں شامل 53 ہزار سے زائد افراد کا ڈیٹا یہ بتاتا ہے کہ شدید ورزش سے متاثر ہونے والے پروٹینز کا تعلق عمر رسیدگی کے عمل کو صحت مند بنانے، دل کی کارکردگی کو بہتر کرنے اور میٹابولک امراض کے خطرات کو کم کرنے سے بھی ہے۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا کہ ان نتائج کو ہرگز یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ مختصر ورزش طویل دورانیے کی معتدل ورزش کا مکمل متبادل ہے۔ صحت کے لیے پٹھوں، دل اور پھیپھڑوں کی مضبوطی کی خاطر طویل دورانیے کی ورزش کی اپنی ایک مخصوص افادیت اور اہمیت برقرار ہے۔

آخر میں ماہرین نے مشورہ دیا کہ دفاتر یا کاروباری مصروفیات میں گھرے افراد مختصر مگر تیز ورزش کو معمول بنا سکتے ہیں، تاہم ایسی شدید ورزش شروع کرنے سے قبل ان افراد کو احتیاط برتنی چاہیے جو طویل عرصے سے ورزش نہیں کر رہے یا کسی طبی مسئلے کا شکار ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *