عراقی سرزمین پر حملوں کے معاملے پر بغداد کا سخت مؤقف سامنے آگیا
بغداد: عراق کی قومی سلامتی کونسل نے امریکا اور سعودی عرب کی جانب سے کیے گئے حالیہ حملوں کے معاملے پر قانونی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے وزارت خارجہ کو ضروری اقدامات کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق حکومت کا کہنا ہے کہ ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق تمام دستیاب راستے اختیار کیے جائیں گے۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزارت خارجہ اس معاملے کو اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی روشنی میں آگے بڑھائے، تمام شواہد کو دستاویزی شکل دے اور عراق کے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر سفارتی اور قانونی اقدامات کرے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ اجلاس کے شرکا نے واضح کیا کہ عراق کی سرزمین پر کسی بھی جانب سے ہونے والی دشمنی پر مبنی کارروائیاں ناقابل قبول ہیں، خواہ ان کے لیے کوئی بھی جواز پیش کیا جائے۔ حکومت نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ قومی خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔
قومی سلامتی کونسل نے زور دیا کہ ملکی سلامتی سے متعلق کسی بھی جارحیت کا جواب دینا اور ایسے معاملات سے نمٹنا صرف عراقی حکومت اور آئینی ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ کسی غیر ریاستی یا بیرونی فریق کو اس حوالے سے کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
یاد رہے کہ عراق سے سعودی عرب پر حملوں کے بعد امریکا اور سعودی عرب کی افواج نے مشترکہ کارروائی کی تھی۔ عراقی پاپولر موبلائزیشن فورسز کے مطابق ان حملوں میں 20 اہلکار ہلاک جبکہ 32 زخمی ہوئے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی عراقی حکومت سے رابطے اور ہم آہنگی کے ساتھ انجام دی گئی۔