| |

ایران جنگ کے بعد امریکا کا میزائل پیداوار بڑھانے کا فیصلہ

واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع نے پیٹریاٹ دفاعی نظام کے جدید میزائلوں کی تیاری کے لیے اسلحہ ساز کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کو اربوں ڈالر کا نیا معاہدہ دے دیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق اس پیش رفت نے ان رپورٹس کو مزید تقویت دی ہے جن میں ایران کے ساتھ جنگی صورت حال کے دوران امریکی دفاعی ذخائر پر دباؤ بڑھنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

عرب میڈیا کے مطابق پینٹاگون نے لاک ہیڈ مارٹن کو 58.6 ارب ڈالر تک مالیت کا معاہدہ دیا ہے، جس کے تحت پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل تیار کیے جائیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ پہلے سے موجود 4.7 ارب ڈالر کے ایک سالہ معاہدے کو وسعت دے کر 7 سالہ پروگرام میں تبدیل کرنے کا حصہ ہے۔

پینٹاگون کے مطابق مالی سال 2026 سے 2032 تک جاری رہنے والے اس پروگرام کے تحت جدید پیٹریاٹ میزائلوں کی مسلسل تیاری کی جائے گی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں اور اتحادی ممالک کو دفاعی سازوسامان کی فراہمی کے باعث اہم ہتھیاروں کے ذخائر پر غیر معمولی دباؤ آیا۔

لاک ہیڈ مارٹن نے اعلان کیا ہے کہ نئے فنڈز کی بدولت 2030 تک پی اے سی تھری ایم ایس ای میزائلوں کی پیداواری صلاحیت 3 گنا تک بڑھائی جائے گی۔ اسی منصوبے کے تحت آرکنساس میں کمپنی کی افرادی قوت میں تقریباً 50 فیصد اضافہ بھی متوقع ہے۔

کمپنی نے مزید بتایا کہ آئندہ چند برسوں میں امریکا بھر میں موجود 20 سے زائد دفاعی تنصیبات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے 8 سے 9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔

اس منصوبے میں الاباما اور آرکنساس میں نئے میزائل مراکز بھی شامل ہیں، جبکہ پی اے سی تھری ایم ایس ای میزائل بیلسٹک اور کروز میزائلوں سمیت جنگی طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *