4 برس بعد ملکی آبادی 30 کروڑ اور 2050ء تک 39 کروڑ پہنچنے کا امکان
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ اگر ملک میں آبادی میں اضافے کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2030 تک پاکستان کی آبادی 30 کروڑ سے تجاوز کر سکتی ہے، جبکہ 2050 تک یہ تعداد تقریباً 39 کروڑ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹر قرۃ العین مری کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں متعلقہ حکام نے آبادی میں اضافے پر قابو پانے کے لیے جاری حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی۔
اس موقع پر اجلاس کو بتایا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت تقریباً 2 ارب روپے مالیت کے منصوبے پر عمل درآمد جاری ہے، جس کا مقصد خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
علاوہ ازیں بریفنگ کے دوران انکشاف کیا گیا کہ 2022 میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت 11 ملین مانع حمل مصنوعات خریدی گئی تھیں، تاہم ان میں سے بڑی تعداد اب تک استعمال نہیں ہو سکی اور مختلف مقامات پر موجود ہے۔
بعد ازاں اس صورتحال پر کمیٹی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے وضاحت طلب کی۔
قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی کے اجلاس میں یہ معاملہ بھی سامنے آیا کہ پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے ہر 5 سال بعد ہونا چاہیے، مگر گزشتہ 8 برس کے دوران یہ سروے مکمل نہ ہونے سے تازہ اور مستند اعداد و شمار دستیاب نہیں ہو سکے۔
قائمہ کمیٹی نے اس تاخیر پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے جون تک مکمل کیا جائے تاکہ آبادی سے متعلق درست معلومات کی بنیاد پر مؤثر منصوبہ بندی ممکن بنائی جا سکے۔