حملے نہ رکے تو ایسا فوجی آپریشن کریں گے کہ امریکا میں سوگ منایا جائے گا: ایران
تہران: ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کو جاری اپنے بیان میں امریکا کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے خلاف حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو ایران ایک ایسا ”افسوسناک فوجی آپریشن“ کرے گا، جس کے بعد امریکا میں عوامی سوگ منانا پڑے گا۔
یرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ملک سے جنگ کے خطرے کو مستقل طور پر ختم کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ جارحیت کرنے والے فریق کو اس کے اقدامات کی بھاری قیمت ادا کرنے پر مجبور کیا جائے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر موجودہ جوابی کارروائیاں کافی ثابت نہ ہوئیں اور امریکا نے اپنے حملے جاری رکھے تو ایران مزید سخت فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے۔
بیان کے مطابق گزشتہ ہفتے سے امریکا ایران کے مختلف فوجی اور شہری مقامات پر فضائی حملے کر رہا ہے جب کہ اس کے جواب میں ایران نے خطے کے مختلف ممالک میں امریکی فوج کی جانب سے استعمال ہونے والی تنصیبات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ ایرانی ایرو اسپیس فورس نے اردن میں واقع کنگ فیصل اور پرنس حسن فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ بیان کے مطابق ایک حملے میں ایف-15 طیاروں کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والا ہینگر نشانہ بنا جب کہ ایک دوسرے حملے میں ڈرونز کی تیاری کے ہینگر میں موجود 8 نئے ایم کیو-9 ڈرونز، جو ابھی شپنگ کنٹینرز میں بند تھے، مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے۔
بیان میں مزید دعویٰ کیا کہ مجموعی طور پر 10 ایم کیو-9 ڈرونز تباہ کیے گئے جب کہ 2 امریکی فوجی ہیلی کاپٹروں کو شدید نقصان پہنچا اور ان حملوں میں متعدد امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔ آبنائے ہرمز کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ گزشتہ رات کسی بھی بحری جہاز نے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش نہیں کی، جس کے باعث وہاں کوئی دھماکا پیش نہیں آیا۔ آئی آر جی سی کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود امریکا نے ایرانی فوجی اور شہری تنصیبات پر فضائی اور میزائل حملے جاری رکھے، جن کا ایران کی جانب سے سخت جواب دیا جا رہا ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے ایرانی سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابوالفضل شکارچی نے دعویٰ کیا کہ امریکا مسلسل حملوں اور وسیع انٹیلی جنس سرگرمیوں کے باوجود ایران کے میزائل تیار کرنے والے مراکز کا سراغ لگانے میں ناکام رہا ہے۔