بحیرہ احمر میں اسرائیل، امریکا اور سعودی عرب سے منسلک جہازوں کو خطرہ، یورپی مشن کا انتباہ
برسلز: یورپی یونین کے بحری مشن ایسپیڈیز نے اسرائیل، امریکا اور سعودی عرب سے منسلک تجارتی جہازوں اور شپنگ کمپنیوں کو بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے راستے سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دے دیا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپی بحری مشن نے بدھ کو جاری تازہ انتباہ میں کہا ہے کہ اسرائیل، امریکا اور سعودی عرب سے وابستہ جہازوں کے لیے خطرے کی سطح بلند قرار دی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ خطرہ صرف ان جہازوں تک محدود نہیں جو ان ممالک کا پرچم استعمال کرتے ہیں بلکہ ان جہازوں پر بھی لاگو ہوگا جنہوں نے حالیہ عرصے میں سعودی عرب کی کسی بندرگاہ پر سامان لوڈ یا ان لوڈ کیا ہو۔
یورپی بحری مشن کے مطابق ایسے جہاز حوثی فورسز کی نظر میں سعودی مفادات سے وابستہ تصور کیے جا سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر ان کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایسپیڈیز مشن نے متعلقہ جہازوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی الیکٹرانک موجودگی کم سے کم رکھیں، ٹریکرز اور خودکار شناختی نظام (AIS) کی غیر ضروری نشریات محدود کریں تاکہ ان کی نقل و حرکت کا سراغ لگانا مشکل ہو۔
اس سے قبل ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی متاثر ہوئی ہے، جہاں اطلاعات کے مطابق امریکا اور اسرائیل سے منسلک جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی جبکہ دیگر تجارتی جہازوں کے لیے بھی پیشگی اجازت کی شرط عائد کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ باب المندب دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان تیل اور دیگر تجارتی سامان کی بڑی مقدار میں ترسیل ہوتی ہے۔