|

(گزشتہ سے پیوستہ)
تاریخ کے صفحات پرنظرڈالیں تومعلوم ہوتاہے کہ معاہدات ہمیشہ صرف سیاسی ضرورت نہیں ہوتے بلکہ بعض اوقات وہ آنے والے ادوار کی سمت متعین کرنے والے تاریخی موڑ ثابت ہوتے ہیں۔اسلامی تاریخ میں صلح حدیبیہ اس کی ایک روشن مثال ہے،جسے اپنے وقت میں بعض لوگوں نے بظاہرایک مشکل سمجھوتہ تصورکیا، مگر وقت نے ثابت کیاکہ وہ حکمت، تدبراوردوراندیشی پرمبنی ایک ایسافیصلہ تھا جس نے مستقبل کے لئے نئے امکانات کے دروازے کھول دئیے۔اسی تاریخی اصول کے تحت موجودہ دفاعی تعاون کوبھی دیکھاجا سکتا ہے کہ ریاستوں کے درمیان پائیدارتعلقات ایک ہی لمحے میں تشکیل نہیں پاتے بلکہ اعتماد،مشترکہ مفادات اورمسلسل رابطوں کے مراحل سے گزرتے ہوئے مضبوط ہوتے ہیں۔
اس تناظرمیں پاکستان،ترکی اورسعودی عرب کے درمیان سہ فریقی شراکت داری ایک تدریجی ارتقاکاحصہ معلوم ہوتی ہے،جہاں ماضی کے تجربات، موجودہ علاقائی ضرورتیں اورمستقبل کے تزویراتی تقاضے ایک نقطے پرجمع ہورہے ہیں۔ گویایہ معاہدہ ایک ایسے درخت کی نئی شاخ ہے جس کی جڑیں پہلے ہی تاریخ، اعتماد اورباہمی تعاون کی زمین میں پیوست ہوچکی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ اس وقت عالمی سیاست کے ایک ایسے نازک دوراہے پرکھڑاہے جہاں پرانے طاقت کے توازن تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں اورنئے علاقائی وعالمی اتحادتشکیل پا رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران ایران اورامریکا کے درمیان کشیدگی،غزہ کا بحران، شام اور یمن جیسے تنازعات،توانائی کے بدلتے ہوئے تقاضے اوربڑی طاقتوں کی بڑھتی ہوئی مسابقت نے خطے کے سیاسی منظرنامے کوایک نئی شکل دے دی ہے۔ ایسے حالات میں مسلم دنیاکے لئے یہ سوال اہم ہوجاتاہے کہ وہ بدلتی ہوئی عالمی صف بندیوں میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے کس نوعیت کی اجتماعی حکمتِ عملی اختیار کرے۔ موجودہ دورمیں محض جغرافیائی قربت کافی نہیں،بلکہ سیاسی بصیرت ، معاشی قوت،دفاعی صلاحیت اورسفارتی ہم آہنگی ہی ریاستوں کوعالمی نظام میں مؤثرکردار اداکرنے کے قابل بناتی ہے۔
بین الاقوامی سیاست اب روایتی یک قطبی نظام سے نکل کر ایک کثیر قطبی عالمی نظم کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں علاقائی طاقتیں اور باہمی اتحاد عالمی فیصلوں پر زیادہ اثر انداز ہو رہے ہیں۔ رانڈ کارپوریشن اوربروکنگزانسٹیٹوٹ جیسے اداروں کے تجزیات بھی اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ آنے والے عشروں میں علاقائی شراکت داریاں عالمی سیاست کے اہم ستون بن سکتی ہیں۔اسی تناظرمیں پاکستان،ترکی اورسعودی عرب کا اتحاد ایک ایسے ’’علاقائی طاقت کامحور‘‘کے طور پر دیکھا جاسکتاہے جس میں تین مختلف نوعیت کی قوتیں یکجا ہوتی ہیں۔پاکستان کی جوہری صلاحیت اورعسکری تجربہ،ترکی کادفاعی وسفارتی اثرورسوخ،اورسعودی عرب کی معاشی وتوانائی کی طاقت اگرمشترکہ حکمتِ عملی کے تحت بروئے کارآئے تویہ امتزاج خطے میں ایک نئے توازنِ قوت کو جنم دے سکتا ہے۔
یہ شراکت داری صرف مشرقِ وسطی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ جنوبی ایشیا،وسطی ایشیااورعالمی سفارت کاری کے وسیع تر دائرے میں بھی اثرات مرتب کرسکتی ہے۔اس اتحاد کی اہمیت اس بات میں پوشیدہ ہے کہ یہ طاقت کے مقابلے کے بجائے طاقت کے توازن کے تصورکوفروغ دے سکتاہے جہاں علاقائی ممالک اپنی خودمختاری،سلامتی اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ یوں بدلتاہوا عالمی منظرنامہ اس حقیقت کواجاگرکرتاہے کہ موجودہ صدی میں وہی اقوام مؤثرکردارادا کر سکیں گی جو انتشارکی بجائے اشتراک،انفرادی قوت کی بجائے اجتماعی حکمت اوروقتی مفادات کی بجائے طویل المدتی وژن کوترجیح دیں گی۔
تاریخ کے اوراق اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ ریاستوں کے تعلقات کبھی جامد نہیں رہتے۔وقت کے ساتھ ساتھ حالات،ترجیحات اورعالمی تقاضے بدلتے رہتے ہیں،اوریہی تبدیلیاںکبھی فاصلے پیداکرتی ہیں تو کبھی قربت کے نئے راستے کھول دیتی ہیں۔ترکی اور سعودی عرب کے تعلقات بھی اسی تاریخی حقیقت کی ایک مثال ہیں۔
جمال خاشقجی کے واقعے کے بعددونوں ممالک کے درمیان جوسفارتی کشیدگی پیداہوئی،اس نے تعلقات میں ایک طویل سردمہری کوجنم دیا،مگروقت کے گزرنے کے ساتھ یہ احساس غالب آیاکہ عالمی سیاست میں مستقل دشمنی یادائمی دوستی کی بجائے قومی مفادات،علاقائی استحکام اورباہمی ضرورتیں زیادہ فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔ آج ترکی اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی محض ایک وقتی سیاسی مفاہمت نہیں بلکہ ایک گہرے تزویراتی ادراک کانتیجہ ہے۔دونوں ممالک نے یہ محسوس کیاکہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں باہمی اختلافات کوطول دینے کی بجائے مشترکہ امکانات کوفروغ دینازیادہ دانش مندانہ راستہ ہے۔
یہ مفاہمت ہمیں تاریخ کے ان ادوارکی یاددلاتی ہے جب مسلم دنیاکی مختلف ریاستیں داخلی اختلافات کے باوجودبڑے چیلنجز کے مقابلے کے لئے مشترکہ مفادات کے دائرے میں تعاون کرتی رہی ہیں۔اندلس کی تاریخ میں بھی ایسے ادوارملتے ہیں جہاں سیاسی اختلافات کے باوجود تہذیبی اورعلمی روابط نے معاشروں کوقریب رکھا۔آج کادوربھی اسی حقیقت کاتقاضاکرتاہے کہ ماضی کی تلخیوں کومستقبل کے امکانات پرغالب نہ آنے دیا جائے۔ترکی اورسعودی عرب کے تعلقات میں آنے والی بہتری اس بات کااظہارہے کہ دور اندیش قیادتیں تاریخ کے بوجھ تلے دبنے کی بجائے مستقبل کے راستے تلاش کرتی ہیں۔یوں یہ مفاہمت محض دوریاستوں کے تعلقات کی بحالی نہیں بلکہ اس وسیع ترحقیقت کی علامت ہے کہ عالمی سیاست میں طاقت،استحکام اوراثرورسوخ انہی اقوام کوحاصل ہوتاہے جواختلافات کے باوجود تعاون کے امکانات کوزندہ رکھنے کاہنرجانتی ہیں۔
ترکی کی اس سہ فریقی شراکت داری میں دلچسپی محض ایک محدوددفاعی تعاون تک منحصرنہیں بلکہ اس کے پسِ پشت ایک وسیع ترعلاقائی وژن کارفرما دکھائی دیتاہے۔انقرہ اس امر کوبخوبی سمجھتا ہے کہ مشرقِ وسطی کے موجودہ مسائل کی جڑصرف عسکری تنازعات میں نہیں بلکہ باہمی عدم اعتماد،سیاسی تقسیم اورمشترکہ حکمتِ عملی کے فقدان میں بھی پوشیدہ ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ترکی کامقصد ایک ایسے علاقائی پلیٹ فارم کی تشکیل ہے جہاں مختلف قوتیں اپنے اختلافات کوپسِ پشت ڈال کرسلامتی، استحکام اور مشترکہ مفادات کے لئے تعاون کرسکیں ۔ اگر پاکستان، سعودی عرب،ترکی اپنے اس اتحاد کے بعد طورپرمصرجیسے اہم ملک کو مشترکہ فریم ورک کے تحت قریب لے آئیں تویہ اتحادمحض دفاعی قوت ہی نہیں بلکہ سفارتی سطح پربھی ایک مؤثرآوازبن سکتاہے۔
یہ تصوربظاہرایک بلندخیال محسوس ہوسکتا ہے، مگرتاریخ گواہ ہے کہ بڑے اتحاد ہمیشہ پہلے ایک خیال کی صورت میں جنم لیتے ہیں اورپھر حالات کی ضرورت انہیں حقیقت کے قالب میں ڈھال دیتی ہے۔یورپ میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والے اتحاداور ایشیامیں ابھرنے والی علاقائی شراکت داریاں اس حقیقت کی مثال ہیں کہ مشترکہ مفادات کبھی کبھی مختلف ریاستوں کوایک نئے راستے پراکٹھا کردیتے ہیں۔ترکی کاوژن اسی وسیع ترتناظرمیں دیکھاجاسکتاہے۔یہ صرف عسکری تعاون کامنصوبہ نہیں بلکہ ایک ایسے علاقائی توازن کی تلاش ہے جس میں سفارت کاری، دفاع، معیشت اورسیاسی اثرورسوخ ایک دوسرے کے معاون بن سکیں۔رجب طیب اردوغان کی خارجہ پالیسی میں یہ تصورنمایاں نظر آتاہے کہ ترکی کوایک ایسی قوت کے طورپراپناکردارادا کرناچاہیے جویورپ،مشرقِ وسطیٰ اورایشیاء کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتی ہو۔
( جاری ہے )

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *