تباہی کا نیا
|

تباہی کا نیا دروازہ

نئے صوبے بنانے کی بات جب بھی اٹھتی ہے تو کچھ لوگ اسے ترقی کا نسخہ قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بڑے صوبے بوجھ بن چکے ہیں اور دور دراز علاقے نظر انداز ہو رہے ہیں اس لئے نئے صوبے بنا کر مقامی مسائل حل کر دئیے جائیں گے۔ بات سننے میں اچھی لگتی ہے لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ اور بھاری ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں پہلے ہی معیشت دم توڑ رہی ہے جہاں قرضوں کا پہاڑ سر پر ہے اور جہاں کرپشن نے نظام کی رگوں میں گھر کر لیا ہے نئے صوبے بنانا صرف انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ ایک نئی تباہی کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے۔دنیا بھر کے تجربات یہی بتاتے ہیں کہ نئے صوبے یا ریاستیں بنانے سے کسی ملک کی بنیادی حالت نہیں بدلی۔ بھارت نے چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، اتراکھنڈ اور تلنگانہ جیسی نئی ریاستیں بنائیں مگر کرپشن، خاندانی سیاست اور اداروں کی کمزوری وہیں کی وہیں رہی۔ چین نے ہینان کو صوبہ بنایا تو معیشت بڑھی مگر اس کی وجہ خصوصی اقتصادی پالیسیاں تھیں نہ کہ صوبے کا درجہ، کرپشن کا حل مرکزی مہمات سے نکالا گیا۔ اسی طرح نائجیریا میں بھی ریاستوں کی تعداد بار بار بڑھائی گئی مگر لوٹ مار، سیاسی سرپرستی اور کمزور ادارے جوں کے توں برقرار رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انتظامی تقسیم کبھی بھی کرپشن، ناانصافی اور ایلیٹ کی گرفت کا علاج نہیں بن سکی۔آج پاکستان کی معیشت کی حالت کیا ہے؟ بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کے سود اور دفاع پر چلا جاتا ہے۔ عام آدمی غربت ، بیروزگاری اور سماجی انصاف نہ ملنے کے باعث سسک سسک کر اپنی زندگیاں ختم کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ بیروزگاری بڑھ رہی ہے صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور سرمایہ کاری کا ماحول تباہ ہے۔ ایسے میں اگر نئے صوبے بنائے جائیں تو کیا ہوگا؟
ہر نئے صوبے کے ساتھ ایک نیا گورنر، ایک نیا وزیراعلیٰ، نئی کابینہ نئی، اسمبلی نیا سیکرٹریٹ، نئے محکمے، نئے افسران، نئے دفاتر، نئی گاڑیاں، نئے پروٹوکول اور نئے اخراجات کی فہرست شروع ہو جائے گی۔ یہ صرف کاغذی انتظام نہیں۔ یہ ایک مکمل نیا حکومتی ڈھانچہ ہے جو اپنے ساتھ لگژری اور فضول خرچی کا پہاڑ لاتا ہے۔سوچیں ذرا۔ ایک نئے صوبے کا دارالحکومت بنے گا۔ وہاں گورنر ہاس کی عمارت، وزیراعلیٰ ہاس، اسمبلی ہال، سیکرٹریٹ کی عمارتیں، پولیس کے نئے ہیڈکوارٹرز اور عدالتوں کے نئے احاطے درکار ہوں گے۔ یہ سب کچھ مفت نہیں بنے گا۔ اربوں روپے زمین کی خریداری، تعمیرات، فرنیچر اور سکیورٹی پر خرچ ہوں گے پھر گاڑیاں آئیں گی۔ آج بھی صوبائی وزرا اور افسران کی کاروں کا قافلہ دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔ نئے صوبے میں یہ قافلے اور لمبے ہو جائیں گے۔ لگژری گاڑیاں، بکتر بند گاڑیاں اور پروٹوکول کی گاڑیاں۔ کچھ جگہوں پر ہیلی کاپٹر اور جہاز بھی مطالبہ بن جائیں گے۔ کیونکہ صوبے کی شان کا تقاضا ہے کہ سربراہ فضائی راستے سے سفر کرے۔ یہ سب کچھ عوام کے پیسے سے ہوگا۔اس کے بعد بھرتیاں۔ نئے محکموں کے لیے ہزاروں نئے ملازمین درکار ہوں گے۔ کلرک سے لے کر سیکرٹری تک، ڈرائیور سے لے کر گارڈ تک ہر عہدے پر بھرتی ہوگی اور ہم جانتے ہیں کہ پاکستان میں بھرتی کا مطلب سفارش، رشتہ داری اور سیاسی تعلقات ہوتا ہے۔ میرٹ کی باتیں صرف تقریر میں رہ جاتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ نیا بیوروکریٹک ڈھانچہ کھڑا ہو جائے گا جو خود کو چلانے کے لئے مزید بجٹ مانگے گا۔ تنخواہیں، الانسز، پنشن اور میڈیکل کے اخراجات الگ۔ ایک نیا صوبہ بنانے کا مطلب صرف نقشہ تبدیل کرنا نہیں بلکہ ایک نئی مستقل اخراجات کی مشین کھڑی کرنا ہے۔کرپشن کا معاملہ بہت سنگین ہے۔ آج جب صرف چار صوبے ہیں تو لوٹ مار کی داستانیں سن سن کر انسان کا دل بیٹھ جاتا ہے۔ ٹھیکے، اراضی، ترقیاتی فنڈز اور سرکاری خریداریاں سب کچھ کرپشن کی بھٹی میں جھلس رہے ہیں۔ عدلیہ کی رفتار سست ہے، احتساب کے ادارے اکثر سیاسی مصلحتوں کا شکار رہتے ہیں اور طاقتور لوگ بچ نکلتے ہیں۔کرپشن کے لیے نئے میدان کھل جائیں گے۔ وہی خاندان، وہی جاگیردار، وہی سیاسی گروہ جو آج موجود ہیں نئے صوبوں میں بھی اپنی گرفت مضبوط کر لیں گے۔ نیا صوبہ نئی لوٹ مار کا موقع بن جائے گا۔ جیسے ایک بیمار جسم پر مزید زخم لگا دیے جائیں اور پھر امید کی جائے کہ صحت بہتر ہو جائے گی۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نئے صوبے سے انتظام بہتر ہوگا، وسائل درست تقسیم ہوں گے اور پسماندہ علاقے ترقی کریں گے۔
یہ بات جزوی طور پر درست ہو سکتی ہے اگر ادارے مضبوط ہوں، احتساب سخت ہو اور سیاسی ثقافت بدل چکی ہو۔ لیکن پاکستان میں یہ شرائط موجود نہیں۔ یہاں طاقت کا مرکز خاندانوں اور مفاداتی گروہوں کے پاس ہے۔ نیا صوبہ بنانے سے طاقت کی تقسیم نہیں ہوتی بلکہ طاقت کے مزید مراکز بن جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے عوام کے وسائل کو مزید ہڑپ کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ادارے کمزور ہوں تو انتظامی تقسیم صرف بوجھ بڑھاتی ہے۔معاشی بوجھ کی بات صرف اخراجات تک محدود نہیں۔ نئے صوبے بنانے کے عمل میں سیاسی تنا بھی پیدا ہوگا۔ وسائل کی تقسیم پر جھگڑے، پانی کے حصے، گیس اور بجلی کے کوٹے اور وفاقی فنڈز پر رقابت۔ یہ سب کچھ معیشت کو مزید غیر یقینی بنا دے گا۔ سرمایہ کار پہلے ہی ہچکچا رہے ہیں۔ سیاسی انتشار اور نئے تنازعات انہیں اور دور کر دیں گے۔ روپیہ مزید کمزور ہوگا، مہنگائی بڑھے گی، اور عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو جائے گی۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے مسائل صوبوں کی تعداد سے نہیں جڑے ہوئے۔ مسئلہ اس نظام کا ہے جو لوٹ کھسوٹ کو پروان چڑھاتا ہے جو میرٹ کو کچلتا ہے اور جو احتساب کو مذاق بنا دیتا ہے۔ اگر کل دس صوبے بھی بنا لیے جائیں تو جب تک یہ نظام نہیں بدلتا نتیجہ وہی رہے گا۔ بلکہ بدتر ہوگا کیونکہ اب دس جگہوں پر الگ الگ حکومتی مشینری چلے گی، دس جگہوں پر الگ الگ کرپشن کے راستے کھلیں گے اور دس جگہوں پر الگ الگ لگژری کا مظاہرہ ہوگا۔ عوام کا پیسہ جو آج بھی ضائع ہو رہا ہے کل اور تیزی سے ضائع ہوگا۔ایک عام آدمی سوچتا ہے کہ نیا صوبہ بننے سے اس کے گاں میں سڑک بنے گی، ہسپتال بہتر ہوگا اور اس کے بچے کو نوکری ملے گی۔ لیکن حقیقت میں پہلے سالوں میں تو صرف عمارتیں بنیں گی، گاڑیاں خریدی جائیں گی اور عہدے بانٹے جائیں گے۔ ترقیاتی کام بعد میں آتے ہیں اور جب آتے ہیں تو اکثر ٹھیکے داروں اور افسران کی جیب بھرتے ہیں۔ یہ سلسلہ آج بھی چل رہا ہے۔ نئے صوبے اسے ختم نہیں کریں گے بلکہ اسے نئی شکل دے دیں گے۔پاکستان کو نئے صوبوں کی نہیں مضبوط اداروں کی ضرورت ہے۔ ایسی عدلیہ کی ضرورت ہے جو بغیر دبا کے فیصلے کرے۔ ایسے احتساب کی ضرورت ہے جو طاقتور کو بھی چھوڑے۔ ایسی سیاسی ثقافت کی ضرورت ہے جو خاندانی اجارہ داری کو توڑے۔ اور سب سے بڑھ کر ایک ایسی معیشت کی ضرورت ہے جو پیداوار پر کھڑی ہو نہ کہ قرضوں اور فضول خرچی پر۔ نئے صوبے بنانا ان سب سے فرار ہے۔ یہ مسائل کا حل نہیں مسائل کو ٹالنے کا طریقہ ہے۔واقفان حال بتا رہے ہیں کہ نئے صوبوں کی مہم پیچھے بیٹھے ڈوریں ہلانے والے طاقتور حلقے چلا رہے ہیں اور اسکے لئے راہ ہموار کرنے کے لئے لاہور کے ایک بڑے میڈیا ہاوس کے مالک کو ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ پیار محبت سے رائے عامہ ہموار کریں تاکہ قوم کی توجہ اصل مسائل ، اسٹیبلشمنٹ ، پالیسی سازوں اور حکومتوں سے ہٹ جائے اور محکوم قوم کو بحث کے لئے ایک نئی سمت دی جا سکے۔ نئے صوبوں کی بات ایک طرح کی خود فریبی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک بیمار شخص کو دوا دینے کی بجائے اس کے کمرے کی رنگت بدل دی جائے لیکن بیماری اندر ہی رہے گی اور مزید پھیلے گی۔ پاکستان کو رنگت کی نہیں علاج کی ضرورت ہے اور علاج نئے صوبوں میں نہیں نظام کی اصلاح میں چھپا ہوا ہے۔ جب تک یہ حقیقت تسلیم نہیں کی جاتی نئے صوبے صرف نئے بوجھ بن کر رہ جائیں گے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *