امریکا کا فلسطینی صدر کو مسلسل دوسرے برس ویزا دینے سے انکار
واشنگٹن: امریکی انتظامیہ نے فلسطینی صدر محمود عباس کو نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت اور خطاب کرنے سے روک دیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق یہ مسلسل دوسرا موقع ہے جب فلسطینی صدر کو امریکی سرزمین پر داخلے کے لیے ویزا جاری نہیں کیا گیا۔
گزشتہ برس کی طرح اس سال بھی صدر محمود عباس کا 24 ستمبر کو ہونے والے جنرل اسمبلی کے عمومی مباحثے سے خطاب متوقع تھا۔ امریکی حکومت کے اس اقدام کے بعد اب یہ قوی امکان ہے کہ فلسطینی صدر گزشتہ سال کی طرح ویڈیو لنک کا سہارا لیں گے۔
امریکی حکام نے ویزا نہ دینے کی وجوہات واضح نہیں کیں، تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ فلسطین کے کچھ اقدامات اور عالمی سطح پر دو ریاستی حل کے لیے کوششیں اس فیصلے کا سبب بن سکتی ہیں۔ امریکا نے حال ہی میں کچھ بین الاقوامی کانفرنسوں پر اعتراضات بھی اٹھائے تھے۔
صدر محمود عباس نے امریکی فیصلہ تبدیل کروانے کے لیے ترک صدر رجب طیب اردوان سے مدد کی درخواست کی تھی۔ اس سلسلے میں اردوان نے صدر ٹرمپ سے ٹیلی فون پر رابطہ بھی کیا، لیکن امریکی انتظامیہ نے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے ویزا پابندی کو برقرار رکھا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار نے امریکی فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میزبان ملک کی حیثیت سے امریکا کو عالمی اجلاسوں میں شرکت کرنے والے وفود کو سہولیات فراہم کرنی چاہییں۔ یہ ذمہ داری اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت میزبان ملک پر عائد ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کا ہیڈ کوارٹر نیویارک میں واقع ہے جس کی وجہ سے امریکی حکومت پر لازم ہے کہ وہ رکن ممالک کے سربراہان کو اجلاس میں شرکت کے لیے داخلے کی اجازت دے، تاہم موجودہ سیاسی کشیدگی کے باعث یہ معاملہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔