اسرائیل کی شام
| |

اسرائیل کی شام میں فضائی کارروائی، خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا

دمشق: اسرائیل نے شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں واقع اہم ترین ابو ظہور ایئربیس کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ان حملوں میں اسرائیل کی جانب سے 8 میزائل داغے گئے جس کے نتیجے میں ایئربیس کے رن وے کو شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

شامی سرکاری ٹی وی نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اسرائیل نے ایک بار پھر ملکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے اس واقعے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

اسعد الشیبانی نے کہا کہ یہ جارحانہ کارروائی پورے خطے کے استحکام کے لیے شدید خطرہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو اس قسم کی جارحیت کا نوٹس لینا چاہیے کیونکہ یہ کارروائیاں خطے کے امن و امان کی صورتحال کو مزید بگاڑ رہی ہیں۔

دوسری جانب ترکیہ اور قطر سمیت متعدد ممالک نے بھی اس فضائی حملے کی پرزور مذمت کی ہے۔ ان ممالک نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسرائیل کا یہ اقدام غیر قانونی اور اشتعال انگیز ہے۔ عالمی سطح پر اس حملے کو خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی سفیر برائے ترکیہ اور شام کے لیے خصوصی نمائندے ٹام بارک نے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا یہ اقدام کسی طور پر بھی خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہوگا، بلکہ اس سے حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے تاحال اس فضائی حملے کے حوالے سے کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا ہے۔

یاد رہے کہ دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اسرائیل شام کے مختلف علاقوں میں سیکڑوں فضائی حملے کر چکا ہے جن میں زیادہ تر سابق شامی فوج کے عسکری اثاثوں کو ہدف بنایا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اسرائیل ان کارروائیوں کا مقصد شامی سرزمین پر موجود عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنا قرار دیتا ہے، جبکہ یہ سلسلہ پورے خطے میں مسلسل فوجی کشیدگی اور غیر یقینی کی فضا کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *