باب المندب میں تجارتی جہاز پر حوثیوں کا حملہ، 2 پاکستانیوں سمیت 3 افراد ہلاک
صنعا: یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے باب المندب آبنائے میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کے نتیجے میں عملے کے 3 ارکان ہلاک ہوگئے، جن میں 2 پاکستانی شہری اور 1 انڈونیشی شہری شامل ہیں۔
ترک میڈیا رپورٹس مطابق تجارتی جہاز کو باب المندب آبنائے میں حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں عملے کے 3 ارکان جان سے گئے،ہلاک ہونے والوں میں 2 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں جبکہ تیسرا جاں بحق ہونے والا شخص انڈونیشیا کا شہری بتایا گیا ہے،حکام کی جانب سے جاں بحق پاکستانی شہریوں کی شناخت، ان کے آبائی علاقوں یا دیگر ذاتی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
حملے کا نشانہ بننے والے تجارتی جہاز کی شناخت بھی فوری طور پر سامنے نہیں آسکی۔ اسی طرح جہاز کے مالک، آپریٹر، اس پر موجود عملے کی مجموعی تعداد اور حملے کے وقت جہاز کس ملک یا کمپنی سے وابستہ تھا، اس حوالے سے بھی تاحال مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
یمنی حکومت سے وابستہ نشریاتی ادارے کے مطابق ہلاکتوں سے متعلق اطلاعات ابتدائی نوعیت کی ہیں اور واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار ہے۔ حکام کی جانب سے حملے کے حالات، جہاز کو پہنچنے والے نقصان اور دیگر ممکنہ جانی و مالی نقصانات کے بارے میں مزید معلومات جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب حوثی گروپ کی جانب سے واقعے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ گروپ نے نہ تو حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور نہ ہی اس میں ہونے والے جانی نقصان کے حوالے سے کوئی تفصیلات جاری کی ہیں۔ اس لیے حملے سے متعلق بعض تفصیلات کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہوسکی۔
باب المندب آبنائے دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ تنگ بحری راستہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے اور ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان تجارتی سرگرمیوں اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
باب المندب کے ذریعے بحری جہاز بحیرہ احمر کے راستے نہر سویز کی جانب سفر کرتے ہیں، جس کے باعث یہ راستہ عالمی تجارت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں سیکیورٹی کی صورتحال خراب ہونے سے صرف مقامی سطح پر بحری نقل و حمل متاثر نہیں ہوتی بلکہ عالمی سپلائی چین، شپنگ کے اخراجات اور مختلف اشیا کی ترسیل کے اوقات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
یمن کے ساحلی علاقوں اور بحیرہ احمر کے اطراف میں حالیہ برسوں کے دوران تجارتی جہازوں کو درپیش سیکیورٹی خطرات کے باعث کئی عالمی شپنگ کمپنیوں نے اپنے بحری راستوں پر نظرثانی کی ہے۔ بعض کمپنیوں نے خطرات سے بچنے کے لیے جہازوں کو باب المندب اور بحیرہ احمر کے راستے کے بجائے افریقہ کے گرد طویل راستے اختیار کرنے کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں سفر کا دورانیہ اور ایندھن سمیت دیگر آپریشنل اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
تازہ واقعے میں 2 پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کی ابتدائی اطلاع سامنے آنے کے بعد پاکستانی حکام کی جانب سے بھی واقعے کی تفصیلات حاصل کیے جانے اور جاں بحق افراد کی شناخت کی تصدیق کیے جانے کا امکان ہے۔