بچوں کو اسمارٹ
|

بچوں کو اسمارٹ فون دینے کی خطرناک عمر کون سی ہے؟

کم عمری میں بچوں کو اسمارٹ فون کا زیادہ استعمال طویل مدت میں ان کی تعلیمی کارکردگی، یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرسکتا ہے، نئی تحقیق میں ماہرین نے اس حوالے سے ایک اہم عمر کی نشاندہی کردی ہے۔

نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایک سے 6 سال کی عمر کے دوران بچوں کا اسمارٹ فون اور دیگر اسکرینز کے سامنے زیادہ وقت گزارنا مستقبل میں ان کی ذہنی اور تعلیمی صلاحیتوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے۔

 

محققین نے اس تحقیق کے لیے سنگاپور کے ایک سروے پروگرام کے دوران جمع کیے گئے 502 بچوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ تحقیق میں مختلف عمروں میں بچوں کے اسکرین کے استعمال اور ان کی نشوونما کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔

 

تحقیق کے دوران یہ بھی دیکھا گیا کہ 9 سال کی عمر میں بچوں کی اسکول میں تعلیمی کارکردگی کیسی رہی، جبکہ ساڑھے 10 سال کی عمر میں ان کی یادداشت اور معلومات محفوظ رکھنے کی صلاحیت کا جائزہ لیا گیا۔

 

تحقیق کے نتائج میں سامنے آیا کہ کم عمری میں اسمارٹ فونز کے زیادہ استعمال اور بعد کی عمر میں تعلیمی کارکردگی اور یادداشت کے درمیان منفی تعلق پایا جاتا ہے۔ خاص طور پر ایک سے 6 سال کی عمر کے دوران اسمارٹ فون کے زیادہ استعمال کو مستقبل میں ان مسائل کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جوڑا گیا ہے۔

 

محققین کے مطابق تحقیق کا بنیادی مقصد یہ جاننا تھا کہ بچپن کے کس مرحلے میں اسمارٹ فونز اور اسکرینز کا زیادہ استعمال مستقبل میں بچوں کے لیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ابتدائی بچپن اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے اور اسی دور میں بچوں کی اسکرین کے استعمال کی عادات ان کی بعد کی نشوونما پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔

 

تحقیق میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ 6 سال کی عمر کے قریب اسکرینز کا بہت زیادہ استعمال بچوں کی مشاہدے اور اردگرد کی چیزوں پر توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صلاحیتیں بچوں کی سیکھنے کے عمل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔

 

محققین کا کہنا ہے کہ اسکول جانے کی عمر کے بچوں کے لیے اسمارٹ فون اور دیگر اسکرینز کا استعمال حتیٰ الامکان محدود رکھنا اہم ہے۔ ان کے مطابق بچوں کو ہر وقت ڈیجیٹل آلات میں مصروف رکھنے کے بجائے ایسی سرگرمیوں کی طرف متوجہ کیا جانا چاہیے جو ان کی ذہنی اور سماجی نشوونما میں مددگار ثابت ہوں۔

 

ماہرین نے اس کی ایک اہم وجہ یہ بیان کی ہے کہ اسمارٹ فون پر زیادہ وقت گزارنے سے بچوں کے پاس کھیل کود، کتابیں پڑھنے، خاندان کے افراد سے گفتگو کرنے اور اپنے اردگرد کے ماحول کا مشاہدہ کرنے کے لیے وقت کم رہ جاتا ہے۔ یہ تمام سرگرمیاں بچوں کی سیکھنے اور ذہنی صلاحیتوں کی نشوونما کے لیے اہم سمجھی جاتی ہیں۔

 

تحقیق کے مطابق کم عمری میں اسکرین کا زیادہ استعمال صرف بچے کے سامنے موجود وقت کو متاثر نہیں کرتا بلکہ اس کے نتیجے میں وہ متعدد ایسی عملی سرگرمیوں سے بھی دور ہوسکتا ہے جو دماغی نشوونما اور یادداشت بہتر بنانے میں معاون ہوتی ہیں۔

 

محققین نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کی ابتدائی عمر میں اسمارٹ فون کے استعمال کی مقدار پر توجہ دینا ضروری ہے، کیونکہ اسی مرحلے میں ان کی سیکھنے، مشاہدے اور معلومات محفوظ رکھنے کی صلاحیتیں تیزی سے نشوونما پاتی ہیں۔

 

تحقیق کے نتائج طبی جریدے ورلڈ جرنل آف پیڈیاٹرکس میں شائع کیے گئے ہیں، جن میں بچوں کی ابتدائی عمر میں اسکرین کے استعمال اور بعد کی تعلیمی و ذہنی کارکردگی کے درمیان تعلق کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *