دوبارہ جنگ ہوئی
|

دوبارہ جنگ ہوئی تو ایران پہلے سے زیادہ سخت جواب دے گا: ایرانی عہدیدار

ایران: سپریم لیڈر کے دفتر کے سیاسی مشیر بریگیڈیئر جنرل رسول سنائی راد نے خبردار کیا ہے کہ اگر مستقبل میں دوبارہ جنگ مسلط کی گئی تو ایران اس مرتبہ پہلے سے زیادہ سخت اور جارحانہ انداز میں جواب دے گا۔ حالیہ جنگ کے دوران ایران نے بھرپور مزاحمت کا مظاہرہ کیا اور آئندہ کسی بھی فوجی تصادم کی صورت میں اس سے زیادہ مضبوط ردعمل دیا جائے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق سپریم لیڈر کے دفتر میں سیاسی مشیر بریگیڈیئر جنرل رسول سنائی راد نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران نے حالیہ جنگ کے دوران ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور اگر دوبارہ جنگ کی صورتحال پیدا ہوئی تو ملک اس سے بھی زیادہ طاقت اور جارحانہ حکمت عملی کے ساتھ مقابلہ کرے گا۔

ایرانی عہدیدار نے اپنے بیان میں امریکا کا براہ راست نام نہیں لیا، تاہم ایران کے مخالفین پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے فوجی دباؤ کے ساتھ ساتھ معاشی مشکلات کو بھی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی، دشمن کا مقصد اقتصادی دباؤ بڑھا کر ایرانی معاشرے میں اختلافات پیدا کرنا اور عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے کو وسیع کرنا تھا۔

رسول سنائی راد کا کہنا تھا کہ مخالفین نے معاشی مشکلات کے ذریعے ایران میں داخلی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کے بقول یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مشکل حالات کے باوجود ایرانی معاشرے نے مزاحمت برقرار رکھی اور بیرونی دباؤ کے نتیجے میں ملک کے اندر مطلوبہ تقسیم پیدا نہیں ہوسکی۔

ایرانی عہدیدار نے حالیہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے شدید دباؤ کے باوجود اپنی مزاحمت جاری رکھی اور مستقبل میں کسی بھی ممکنہ تنازع کے لیے اس کا ردعمل پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔ ایران نے گزشتہ جنگ سے حاصل ہونے والے تجربات کو مدنظر رکھا ہے اور آئندہ کسی حملے کی صورت میں زیادہ مضبوط انداز اختیار کیا جائے گا۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ ایرانی قیادت کے حالیہ سخت بیانات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ تہران مستقبل میں کسی نئے فوجی تصادم کی صورت میں اپنی دفاعی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ جوابی کارروائی کو بھی مزید مؤثر اور سخت رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

رسول سنائی راد کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ایرانی قیادت حالیہ جنگ کو محض ایک فوجی مقابلے کے طور پر نہیں دیکھ رہی بلکہ اسے ملک پر معاشی اور داخلی دباؤ ڈالنے کی کوشش سے بھی جوڑ رہی ہے۔

تہران کا مؤقف ہے کہ مستقبل میں کسی بھی نئے تنازع کی صورت میں وہ ان تمام عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے پہلے سے زیادہ سخت ردعمل دینے کے لیے تیار ہوگا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *