جی میل کا بہترین فیچر، جس سے آج بھی بیشتر صارفین لاعلم ہیں
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ای میل بھیجنے کے فوراً بعد احساس ہوتا ہے کہ پیغام غلط شخص کو چلا گیا، متن میں کوئی اہم غلطی رہ گئی یا خودکار تصحیح نے الفاظ کا مفہوم ہی بدل دیا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ جی میل میں ایک ایسا سہولت بخش فیچر موجود ہے جو ایسی صورتحال میں بڑی پریشانی سے بچا سکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سہولت کوئی نئی نہیں بلکہ ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے جی میل کا حصہ ہے، تاہم اب بھی بڑی تعداد میں صارفین اس سے ناواقف ہیں۔ اس فیچر کی مدد سے بھیجی گئی ای میل کو چند لمحوں کے اندر واپس روکا جا سکتا ہے، جس کے بعد صارف اسے دوبارہ کھول کر ضروری تبدیلیاں کرنے یا مکمل طور پر منسوخ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
جی میل نے یہ سہولت پہلی مرتبہ 2009 میں متعارف کرائی تھی، تاہم ابتدائی برسوں میں یہ صرف تجرباتی خصوصیات کے حصے کے طور پر دستیاب تھی اور اسے استعمال کرنے کے لیے مخصوص ترتیبات میں جا کر فعال کرنا پڑتا تھا۔ بعد ازاں 2015 میں اسے تمام صارفین کے لیے مستقل طور پر فراہم کر دیا گیا، مگر اس کے باوجود بیشتر افراد آج بھی اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔
جب بھی کوئی ای میل ارسال کی جاتی ہے تو اس کے فوراً بعد پردے کے نچلے بائیں حصے میں ای میل واپس لینے کا اختیار ظاہر ہوتا ہے۔ اگر صارف مقررہ وقت کے اندر اس پر کلک کر دے تو ای میل وصول کنندہ تک پہنچنے سے پہلے ہی واپس آ جاتی ہے اور دوبارہ ترمیم کے لیے کھل جاتی ہے۔
اس فیچر کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اگر مقررہ وقت کے اندر ای میل واپس لے لی جائے تو جس شخص کو پیغام بھیجا گیا تھا، اسے اس کی کوئی اطلاع نہیں ملتی اور نہ ہی اسے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ای میل بھیجی اور پھر واپس لے لی گئی۔
ابتدائی طور پر ای میل واپس لینے کا وقت 5 سیکنڈ مقرر ہوتا ہے، تاہم صارف جی میل کی ترتیبات میں جا کر اس دورانیے کو بڑھا کر 30 سیکنڈ تک کر سکتا ہے۔ اس اضافی وقت کے دوران ای میل کا دوبارہ جائزہ لیا جا سکتا ہے، غلطیاں درست کی جا سکتی ہیں یا ضرورت پڑنے پر اسے مکمل طور پر منسوخ بھی کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ سہولت روزمرہ استعمال کے دوران ہونے والی عام غلطیوں سے بچانے میں نہایت مؤثر ثابت ہوتی ہے، خصوصاً ایسے مواقع پر جب جلد بازی میں ای میل غلط پتے پر بھیج دی جائے یا متن میں ایسی خامی رہ جائے جسے بھیجنے کے بعد درست کرنے کی ضرورت محسوس ہو۔