بجلی بلوں میں اووربلنگ کا بڑا انکشاف، قومی اسمبلی کمیٹی میں اربوں روپے کا معاملہ سامنے آگیا
اسلام آباد: قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں بجلی صارفین سے مبینہ اووربلنگ کے ذریعے اربوں روپے وصول کیے جانے کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں آڈٹ حکام نے بتایا کہ جن صارفین کی جانب سے اضافی بلوں کے خلاف شکایت درج نہیں کرائی جاتی، انہیں خودکار طور پر رقم واپس نہیں کی جاتی، جس پر کمیٹی ارکان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین شاہدہ اختر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں آڈٹ حکام نے بتایا کہ 90 کروڑ 46 لاکھ یونٹس کے معاملے میں تقریباً 2 لاکھ 78 ہزار صارفین کو ریفنڈ دیا گیا۔
اس موقع پر کمیٹی رکن سینیٹر افنان اللہ نے سوال اٹھایا کہ ایک صارف 3 ہزار سے زائد یونٹس کیسے استعمال کر سکتا ہے اور آیا ریفنڈ حاصل کرنے والوں میں صنعتی صارفین بھی شامل تھے۔
لیسکو کے چیف ایگزیکٹو نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ریفنڈ لینے والوں میں بعض ٹیوب ویل اور صنعتی صارفین بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی چوری کے لیے بعض افراد جدید طریقے استعمال کر رہے ہیں اور کچھ صارفین مخصوص آلات کے ذریعے اپنے میٹروں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم کمیٹی ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ آڈٹ رپورٹ اداروں کی کارکردگی سے متعلق ہے، نہ کہ صارفین کو قصوروار ٹھہرانے کے لیے۔
اجلاس کے دوران شازیہ مری نے کہا کہ بجلی اداروں کی غفلت کو صارفین پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ حسین طارق نے ایک ہی دن میں ہزاروں اضافی یونٹس ڈالنے سے متعلق میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیا۔ سینیٹر افنان اللہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر شکایت نہ کرنے والے صارفین کو ریفنڈ نہیں ملتا تو اصل اووربلنگ کی مقدار کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔
سیکریٹری توانائی نے کمیٹی کو بتایا کہ بجلی کمپنیوں کی جانب سے آڈٹ ریکارڈ تاخیر سے فراہم کیا گیا، اس لیے معاملہ ابھی نمٹایا نہ جائے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ رواں سال 1 کروڑ 60 لاکھ اسمارٹ میٹر نصب کیے جائیں گے اور آئندہ خراب میٹر کی جگہ صرف اسمارٹ میٹر لگایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے سعودی عرب اور ترکیہ سے بھی رابطے کیے گئے ہیں، جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا آپشن بھی زیر غور ہے۔ کمیٹی نے معاملہ مزید جانچ کے لیے ڈی اے سی کو بھجواتے ہوئے رپورٹ دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔