حکومت کاغریبوں سے سنگین مزاق، پرانی موٹرسائیکل پیٹرول ریلیف اسکیم سے باہر
کراچی: وزیراعظم کی پیٹرول سبسڈی ا سکیم میں 2011 سے پہلے رجسٹرڈ موٹر سائیکلز اہل نہ ہونے پر سوشل میڈیاصارفین نے فیس بک،ایکس ٹویٹر اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فورم پر وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانا بناتے ہوئے اسےغریب عوام کے ساتھ مذاق قرار دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے موٹرسائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے 100 روپے فی لیٹر پٹرول ریلیف اسکیم کے اعلان کے بعد، ان شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے جن کے پاس 2011 یا اس سے پرانے ماڈل کی گاڑیاں اور بائیکس موجود ہیں۔ دوسر ی جانب 7 دن کے اندر 5 لیٹر پیٹرول ڈلوانا ہے ورنہ ٹوکن ایکسپائر ہو جائے گا۔یکم جنوری 2011 سے پہلے رجسٹرڈ موٹر سائیکل سبسڈی کے لیے اہل نہ ہونے اور دیگرپیچیدہ طریقہ کار اور شرائط کی وجہ سے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے وفاقی حکومت پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ واہ حکمرانوں! آپ نے غریب عوام کے ساتھ خوب مذاق کیاہے!جن کے پاس نئی گاڑیاں خریدنے کی استطاعت نہیں، جن کی زندگی کی واحد سواری پرانی موٹر سائیکل ہے، آج اسی غریب کو ریلیف کے نام پر قطار سے باہر کر دیا گیا ہے!حکمرانوں ذرا زمینی حقیقت دیکھو، زیادہ تر مزدور، دیہاڑی دار، کسان اور کم آمدنی والے لوگ نئی نہیں بلکہ پرانی موٹر سائیکلیں استعمال کرتے ہیں۔اگر پٹرول سستا کرنا ہے تو غریب کی سواری دیکھو،یہ کیسا ریلیف ہے جو ضرورت مند تک پہنچنے سے پہلے ہی شرائط کی دیوار سے ٹکرا جاتا ہے؟.
امین صدیقی نامی سوشل میڈیا صار ف نے اپنے ٹویٹر (ایکس) پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وزیراعظم پیٹرول سبسڈی اسکیم میں 2011 سے پہلے رجسٹرڈ موٹر سائیکلز اہل نہیں ہیں ،کیا 2011 سے پہلے رجسٹرڈ شدہ موٹر سائیکلز پانی پر چلتے ہیں؟جس بھائی کے پاس یکم جنوری 2011 سے پہلے کی رجسٹرڈ گاڑی یا موٹر سائیکل ہے وہ اپنے پیسے اور وقت ضائع نہ کرے کیونکہ وہ پٹرول سبسڈی کے اہل نہیں ہیں۔
ارسلان نامی صارف کا کہنا ہے کہ یہ کیسی سبسڈی ہے؟ یکم جنوری 2011 کے بعد رجسٹرڈ گاڑیاں اہل ہیں، لیکن 2011 سے پہلے والی گاڑیوں کے مالکان اہل نہیں۔ یعنی جو غریب آدمی آج بھی پرانی گاڑی یا موٹر سائیکل استعمال کر رہا ہے، اسے ریلیف نہیں ملے گا۔ 100 روپے دے کر اسے سبسڈی کا نام دے کر عوام پر احسان نہ کریں، سب کو یکساں ریلیف دیں۔
محمد معز انصاری نے لکھا ہے کہ عوام کو قصیدے نہیں، سستا پٹرول چاہیے۔عوام کو ٹوکن نہیں، آسان قیمت چاہیے۔عوام کو پیچیدہ شرائط نہیں، براہ راست ریلیف چاہیے۔اور حکومت کو اگر واقعی غریب کا درد محسوس ہوتا ہے تو سب سے آسان راستہ آج بھی وہی ہے جو عوام بار بار بتا رہے ہیں:پٹرولیم لیوی اور حکومتی ٹیکس کم کر دیں، پٹرول کی قیمت نیچے لے آئیں، اور عوام کو اس ریلیف کے لیے کسی سرکاری نظام کے دروازے پر کھڑا نہ کریں۔ورنہ بے ڈھنگا سا ریلیف دے کر بے تکے قصیدے پڑھنے سے نہ پٹرول سستا ہوگا، نہ مہنگائی کم ہوگی، نہ عوام کی پریشانی ختم ہوگی۔ہاں، البتہ حکومتی اشتہارات ضرور بڑھ جائیں گے۔
ایک اور صارف احمد سلیم نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا ہےکہ وزیر اعظم پٹرول ریلیف اسکیم میں جنوری 2011 سے پہلے رجسٹرڈ موٹر سائیکل والا کیوں اہل نہیں۔؟ کیا 2011 سے پہلے والے میں پٹرول نہیں ڈالا جاتا۔؟ یا وہ کسی کے نام پر رجسٹرڈ نہیں۔؟ یا وہ ایکسائز کے ریکارڈ میں نہیں ریلیف میں بھی امتیاز کیوں ہے؟۔
امجد نامی صارف کا کہنا ہے کہ کیا 2011 سے پہلے رجسٹرڈ موٹر سائیکل پٹرول استعمال نہیں کرتی؟جس شہری کے پاس پرانی مگر قانونی طور پر رجسٹرڈ موٹر سائیکل ہے، وہ بھی اسی قیمت پر پٹرول خریدتا ہے، وہ بھی مہنگائی کا سامنا کر رہا ہے اور اسے بھی سفر کے لیے موٹر سائیکل استعمال کرنا پڑتی ہے۔پھر رجسٹریشن کا سال ریلیف حاصل کرنے کی بنیاد کیوں بنا دیا گیا؟اگر حکومت کا مقصد واقعی عام موٹر سائیکل سوار کو پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے کچھ ریلیف دینا ہے تو معیار ضرورت، قانونی رجسٹریشن اور حقیقی استعمال ہونا چاہیے، محض موٹر سائیکل کی عمر نہیں۔2011 سے پہلے رجسٹرڈ موٹر سائیکل رکھنے والا شہری اس ریلیف کا حقدار کیوں نہیں؟امید ہے اس شرط پر نظرِ ثانی کی جائے گی، کیونکہ ریلیف ایسا ہونا چاہیے جو مستحق تک پہنچے، نہ کہ ایسی شرطوں میں الجھ جائے جن کی منطق عام آدمی کی سمجھ سے باہر ہو۔
ریا ض نامی صارف کا کہنا تھا کہ آج رجسٹریشن کے لیے میسج کیا تو پتہ چلا 2011 سے پہلے کی موٹر سائیکلیں اس فیول ریلیف کی اہل نہیں ۔ یہ کیا ڈرامے بازی ہے۔جناب! پاکستانی عوام میں جن کے پاس یکم جنوری 2011 سے پہلے رجسٹرڈ موٹر سائیکل، رکشہ یا 800cc گاڑی ہے، وہ اس سبسڈی کے لیے اہل نہیں ہو سکتے۔ لگتا ہے حکومت کے حساب سے یکم جنوری 2011 سے پہلے گاڑی خریدنے والے سب لوگ اتنے امیر ہیں کہ انہیں پٹرول پر ریلیف کی ضرورت ہی نہیں! غریب عوام کو ریلیف بھی تاریخِ رجسٹریشن دیکھ کر! یہ کیسا ریلیف ہے جناب؟۔
گل خان نامی صارف نے لکھا کہ ہمارے ہاں سرکاری اسکیموں کی تاریخ گواہ ہے کہ اعلانات تو زور شور سے کیے جاتے ہیں مگر ان پر عمل درآمد کا طریقۂ کار اس قدر پیچیدہ اور غیر واضح رکھا جاتا ہے کہ ا سکیم اپنی افادیت کھو بیٹھتی ہے۔ کیا یہ زیادہ بہتر نہ ہوتا کہ حکومت پٹرول کی قیمت ہی براہِ راست کم کر دیتی تاکہ ہر شہری، بلا امتیاز اور بلا رجسٹریشن اس سے مستفید ہو سکتا؟ لیکن ایسا کرنے کی بجائے ایک ایسا راستہ نکالا گیا جو دیکھنے میں ریلیف مگر عملی طور پر ایک ڈھکوسلا معلوم ہوتا ہے۔
موٹر سائیکل سوار شہریوں کا موقف ہے کہ پرانے ماڈل رکھنے والے زیادہ تر لوگ مڈل کلاس یا غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ سب سے زیادہ ریلیف کے حقدار ہیں، لیکن پرانے ماڈل کی وجہ سے انہیں اس سہولت سے باہر رکھا جا رہا ہے ۔وزیرِ اعظم صاحب! پرانی بائیک والے غریب کو فیول سبسڈی سے کیوں محروم کیا گیا؟جنوری 2011 سے پہلے کی رجسٹرڈ بائیکس پر پابندی لگانا سراسر ناانصافی ہے!آج کے اس مہنگائی کے دور میں جو شخص 1994 یا 1990 ماڈل کی پرانی موٹر سائیکل چلا رہا ہے، وہ سب سے زیادہ غریب اور مجبور ہے۔ اگر وہ امیر ہوتا یا اس کے پاس پیسے ہوتے تو وہ نئی بائیک نہ خرید لیتا؟جب بائیک Excise Department کے ریکارڈ میں ایکٹیو رجسٹرڈ ہے، اس کا ٹیکس اور نمبر پلیٹ قانونی ہے، تو محض ماڈل پرانا ہونے کی وجہ سے غریب ڈرائیور کو ریلیف سے کیوں روکا جا رہا ہے؟ اصل حقدار تو یہ پرانی بائیک والے ہیں!وزیراعظم شہباز شریف صاحب اور وزیرِ پٹرولیم سے گزارش ہے کہ اس فیصلے پر نظرِ ثانی کی جائے اور ایکسائز ریکارڈ میں رجسٹرڈ تمام پرانی بائیکس کو بھی اس ا سکیم کا حصہ بنایا جائے تاکہ ریلیف اصل مستحقین تک پہنچ سکے۔
سوشل میڈیا صارف محمد علی نے لکھا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف صاحب محض اعلانات سے مسائل حل نہیں ہوتے جب تک حکمران طبقہ اپنی مراعات میں کمی لا کر عوام کے ساتھ حقیقی معنوں میں کھڑا ہونے کا عملی مظاہرہ نہیں کرے گا تب تک ایسے اعلانات محض سیاسی نعروں سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔
اس حوالے سے ایکسائیز اینڈ ٹیکسیشن کے ذارئع کا کہنا ہے کہ بہت سے ڈیٹا بیسز یا ایکسائز سسٹمز میں 2011 سے پہلے کی گاڑیاں آن لائن رجسٹرڈ نہیں ہو پا رہی ہیں یا ان کا ریکارڈ ڈیجیٹلائزڈ نہیں ہے۔ ریکارڈ اپ ڈیٹ نہ ہونے کی وجہ سے یہ شہری اسکیم کے لیے اہل (Eligible) نہیں ٹھہر رہے ہیں۔