| |

حوثیوں نے سعودی بحری جہاز پر حملے کا دعویٰ کردیا، باب المندب میں کشیدگی بڑھ گئی

یمن کے حوثی گروپ نے باب المندب میں سعودی عرب کے لیے فوجی سازوسامان لے جانے والے بحری جہاز پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ گروپ نے کارروائی کو اپنی حالیہ سعودی مخالف بحری سرگرمیوں کا حصہ قرار دیا ہے۔

عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والی اہم آبی گزرگاہ میں یہ مبینہ کارروائی کی ہے۔ حوثیوں کے زیرانتظام خبررساں ادارے سبا کی جانب سے بھی اس حملے کی اطلاع دی  گئی ہے۔

تاہم عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے فوری طور پر حوثیوں کے دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کی۔ سعودی جہاز کی ملکیت اور اس پر فوجی سازوسامان کی موجودگی کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

یاد رہے کہ حوثیوں نے گزشتہ ماہ سعودی بحری جہازوں کے خلاف ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد گروپ نے سعودی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کے متعدد دعوے بھی کیے ہیں۔

دوسری جانب رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے گزشتہ روز رپورٹ کیا تھا کہ منگل کو باب المندب میں ایک چھوٹے کارگو جہاز پر حوثیوں نے حملہ کیا۔ اس واقعے میں 4 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 2 پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔

رائٹرز کے اعداد و شمار کے مطابق اگست کے آغاز میں سعودی تیل سے لدے 2 ٹینکر باب المندب سے گزرنے میں کامیاب رہے، تاہم مجموعی طور پر تجارتی جہازوں کی آمدورفت پہلے کے مقابلے میں کم رہی۔

اُدھر آبنائے ہرمز کی بندش اور باب المندب میں بحری کشیدگی نے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ کردی ہے۔ اہم آبی راستوں میں مسلسل خطرات کے باعث عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات برقرار ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *