| | |

کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کیلیے تیار ہیں، ایران کا امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام

تہران: امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے اہم انفرا اسٹرکچر، خصوصاً توانائی تنصیبات، کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانے کی اطلاعات کے بعد تہران نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران نے دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں طاقت کے توازن کو نظر انداز کرنے والی کسی بھی جارحیت کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

ایران کی خاتم الانبیا بریگیڈ کے سینئر کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ دور گزر چکا جب کوئی ملک حملہ کرکے بغیر نقصان اٹھائے واپس جا سکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایران ہر ممکن خطرے سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت، واضح حکمت عملی اور مضبوط دفاعی تیاری رکھتا ہے، اس لیے کسی بھی غلط اندازے پر مبنی کارروائی کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق جنرل عبداللہی نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اب یہ حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ ممکنہ جنگ کی صورت میں انہیں بھاری قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران صرف دفاعی صلاحیت ہی نہیں بلکہ ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع منصوبہ بھی رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کو ایران کے خلاف نئی کارروائیوں کی تیاری کی ہدایت دی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن اور تل ابیب ایران کی توانائی تنصیبات کو ممکنہ اہداف میں شامل کرتے ہوئے مختلف عسکری آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ یہ کارروائیاں ہفتے کے اختتام تک کسی بھی وقت ہو سکتی ہیں۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے کابینہ اجلاس کے دوران ایران پر معاہدوں کی خلاف ورزی اور غلط بیانی کے الزامات دہراتے ہوئے کہا کہ تہران کے ساتھ کسی نئے معاہدے پر اعتماد مسلسل کمزور ہوتا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تازہ بیانات نے پہلے سے کشیدہ علاقائی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، جبکہ عالمی برادری کی نظریں آئندہ چند دنوں کی پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *