|

جشن آزادی سے قبل کراچی کی جھنڈا گلی سیل، معروف پرچم ساز کا اقدام پر اظہارِ تشویش

کراچی: جشن آزادی سے چند روز قبل معروف جھنڈا مارکیٹ ’جھنڈا گلی‘ سیل کیے جانے پر پرچم سازوں اور تاجروں میں تشویش پھیل گئی، معروف پرچم ساز شیخ نثار احمد نے مارکیٹ بند کرنے کے فیصلے کو ظلم قرار دیتے ہوئے حکام سے فوری نظرثانی کا مطالبہ کردیا۔

کراچی میں جشن آزادی کی تیاریاں عروج پر پہنچنے کے باوجود شہر کی معروف جھنڈا مارکیٹ کو سیل کیے جانے سے پرچم سازوں اور یوم آزادی کے حوالے سے سامان تیار کرنے والے تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مارکیٹ کی بندش ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب جشن آزادی میں صرف 6 دن باقی رہ گئے ہیں اور ملک بھر میں 14 اگست کے لیے قومی پرچم، بیجز، جھنڈیاں، سبز و سفید سجاوٹی سامان اور دیگر اشیا کی تیاری اور فروخت کا سلسلہ تیز ہوجاتا ہے۔

کراچی کے معروف پرچم ساز شیخ نثار احمد نے جھنڈا گلی کو سیل کیے جانے کے اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ظلم قرار دیا ہے،ایسے وقت میں جب پرچم ساز اور تاجر پورے سال کی محنت کے بعد جشن آزادی کے دنوں میں اپنی تیار کردہ اشیا فروخت کرکے سرمایہ واپس حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں، پوری مارکیٹ کو بند کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

شیخ نثار احمد نے کہا کہ جھنڈا گلی میں بڑی تعداد میں ایسے افراد کاروبار کرتے ہیں جو سال بھر جشن آزادی سے متعلق سامان تیار کرتے اور اس کی تیاری پر اپنا سرمایہ خرچ کرتے ہیں۔ ان تاجروں اور کاریگروں کی آمدن کا بڑا انحصار اگست کے مہینے میں ہونے والی فروخت پر ہوتا ہے، اس لیے جشن آزادی سے صرف چند روز قبل مارکیٹ سیل کیے جانے سے ان کا کاروبار براہ راست متاثر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حکام کو اس فیصلے سے متاثر ہونے والے لوگوں کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔ ان کے مطابق پرچم ساز اور دیگر متعلقہ کاروباری افراد پورا سال اس امید پر کام کرتے ہیں کہ 14 اگست کے موقع پر قومی پرچم اور جشن آزادی کا سامان فروخت کرکے اپنے اخراجات پورے کریں گے اور کچھ منافع حاصل کریں گے۔

معروف پرچم ساز کا کہنا تھا کہ اگر مارکیٹ کو اسی طرح بند رکھا گیا تو تاجروں کا تیار کردہ سامان فروخت نہیں ہوسکے گا اور ان کا سرمایہ پھنس جائے گا، جو لوگ کئی ماہ سے قومی پرچم اور جشن آزادی کا سامان تیار کرنے پر رقم خرچ کرچکے ہیں، وہ اپنا سرمایہ کیسے واپس حاصل کریں گے۔

شیخ نثار احمد نے کہا کہ کاروباری طبقہ پہلے ہی مختلف پابندیوں اور مشکلات کا سامنا کررہا ہے، ایسے میں جشن آزادی کے انتہائی اہم دنوں میں جھنڈا مارکیٹ کو سیل کرنا ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ فیصلے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے اور تاجروں کے معاشی نقصان کو بھی مدنظر رکھا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگست کے پورے مہینے میں سندھ میں دفعہ 144 کے نفاذ کے باعث بھی مختلف کاروباری سرگرمیوں اور تقریبات کے حوالے سے پہلے ہی خدشات موجود ہیں۔ ایسے حالات میں جھنڈا گلی کو بھی بند کیے جانے سے پرچم سازوں اور قومی پرچم سے متعلق سامان تیار کرنے والے افراد کے مسائل میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

شیخ نثار احمد نے حکام بالا سے اپیل کی کہ جھنڈا گلی کو سیل کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور ایسا راستہ اختیار کیا جائے جس میں سیکیورٹی انتظامات بھی برقرار رہیں اور تاجروں کا کاروبار بھی مکمل طور پر متاثر نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ جشن آزادی ملک کا اہم قومی دن ہے اور اس موقع پر قومی پرچم اور سبز ہلالی پرچم سے متعلق سامان کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے،پرچم سازوں نے اسی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلے ہی بڑی مقدار میں سامان تیار کیا ہے، لہٰذا مارکیٹ کی بندش سے نہ صرف تاجروں بلکہ ان سے وابستہ کاریگروں، مزدوروں اور دیگر افراد کے روزگار پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ جشن آزادی میں اب صرف 6 دن باقی ہیں اور یہ ان کے کاروبار کے لیے سب سے اہم دن ہیں۔ اس لیے حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ سیکیورٹی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے مارکیٹ کے کاروبار کے لیے قابلِ عمل طریقہ کار وضع کریں تاکہ قومی دن کی مناسبت سے تیار کیا جانے والا سامان عوام تک پہنچ سکے اور چھوٹے کاروباری افراد کو ناقابل تلافی مالی نقصان سے بچایا جاسکے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *