کارکنان رات 10 بجے چوکوں پر نکلیں، ہر چوک کو ڈی چوک بنائیں: سہیل آفریدی
راولپنڈی میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ائی) اور سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ روڈ پہنچنے والے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کارکنان اور پارٹی رہنماؤں کو رات 10 بجے ملک بھر میں احتجاج کے لیے نکلنے کی ہدایت کردی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی غرض سے اڈیالہ روڈ پہنچے، جہاں راولپنڈی پولیس نے سڑک پر موجود رکاوٹیں ہٹادیں۔ فیکٹری ناکے پر سہیل آفریدی نے ایس ایچ او صدر بیرونی سے گفتگو کی اور ان سے پوچھا کہ ان کے لیے کیا پیغام لایا گیا ہے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ نے سادہ لباس میں موجود ایک شخص کی موجودگی پر بھی سوال کیا۔ انہوں نے پولیس افسر سے پوچھا کہ کیا یہ بھی ایس ایچ او ہیں، جس کے بعد سادہ لباس شخص سے دریافت کیا کہ وہ بریگیڈیئر، کرنل یا میجر ہیں۔ مذکورہ شخص نے جواب دیا کہ وہ صحافی ہیں۔
اڈیالہ روڈ پر موجود ایک صحافی نے وزیراعلیٰ سے سوال کیا کہ پولیس کی جانب سے ملاقات کے حوالے سے کوئی جواب نہیں آیا، ایسے میں کیا وہ انتظار کریں گے یا واپس چلے جائیں گے۔ سہیل آفریدی نے جواب دیا کہ ملاقات کا مقررہ وقت باقی ہے، اس لیے وہ اس وقت تک انتظار کریں گے۔
وزیراعلیٰ نے اسی دوران پارٹی کے ارکان اسمبلی، پارلیمانی نمائندوں اور عہدیداروں کو رات 10 بجے کی تیاری کرنے کی ہدایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مقررہ وقت پر ملک بھر میں کارکنان باہر نکلیں۔ انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ پاکستان اور پی ٹی آئی کے پرچم لے کر اپنے علاقوں کے چوک اور چوراہوں میں پہنچیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مقررہ وقت پر پاکستان اور پی ٹی آئی کے پرچم لے کر کارکنان چوک اور چوراہوں میں پہنچیں اور پورے پاکستان کے ہر چوک کو ڈی چوک بنا دیں
ایک صحافی کی جانب سے یہ سوال کیے جانے پر کہ اگر پارٹی 10 ہزار افراد بھی جمع نہیں کرسکتی تو 2 لاکھ افراد جمع کرنے کا دعویٰ کیسے کیا جارہا ہے، وزیراعلیٰ نے صحافی سے اس کا تعارف پوچھا۔ صحافی نے بتایا کہ وہ ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ سے وابستہ ہیں، جس پر سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ اس سوال کا جواب نہیں دیتے۔
سہیل آفریدی نے موجودہ سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 2022 سے بانی پی ٹی آئی اور ان کی جماعت کے ساتھ جو طرز عمل اختیار کیا جارہا ہے وہ درست نہیں۔ ضد اور انا کی سیاست کے باعث پورے ملک کو تباہی کی طرف لے جایا جارہا ہے اور نظام مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ جس نظام کو موجودہ شکل میں لایا گیا، اس کے ذمہ دار ہی اس کی تباہی کے بھی ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے پارٹی کارکنان کو ہدایت کی کہ وہ اپنی توجہ 27 ستمبر کے مارچ پر مرکوز رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کی کال مخالفین کے لیے ایک ڈراؤنے خواب کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ گزشتہ روز خیبر میں عوام کی بڑی تعداد باہر نکلی اور آئندہ دیگر اضلاع میں بھی عوامی رابطہ اور اجتماعات کیے جائیں گے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پارٹی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں 20 لاکھ افراد جمع کرنے کا اعلان کیا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو اس سے بھی زیادہ لوگوں کو اسلام آباد لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک کے حالات بہتر کرنا مقصود ہیں تو 28 ستمبر سے قبل بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے۔
وزیراعلیٰ نے دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ ملک کے ساتھ مخلص نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی صفوں سے تعلق رکھنے والا ایک وزیر خود یہ بیان دے چکا ہے کہ نظام تباہی کا شکار ہوچکا ہے، لہٰذا موجودہ صورتحال کے ذمہ داروں کو ملک کو درپیش بحران کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔