محسن نقوی پہلے پی سی بی میں انقلاب لائیں،خواجہ آصف
اسلام آباد:مسلم لیگ ن کے رہنماءاور وزیر دفاع خواجہ آصف نے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سسٹم ہر وقت ارتقا (Evolve) کے عمل سے گزرتے رہتے ہیں اور ایسا ہونا بھی چاہیے۔
تاہم اگر عملی تبدیلی لانی ہے تو اس کا آغاز پاکستان کرکٹ بورڈ سے کیا جائے، کیونکہ کرکٹ شائقین پی سی بی کی موجودہ کارکردگی سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ بطور مثال پاکستان کرکٹ بورڈ میں کوئی حقیقی انقلاب لا کر دکھایا جائے، کیونکہ وہاں تمام اختیارات ایک ہی انتظامیہ کے پاس موجود ہیں اور کسی قسم کی سیاسی یا انتظامی رکاوٹ بھی درپیش نہیں۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ پی سی بی میں نہ کوئی وزیراعظم رکاوٹ ہے، نہ پارلیمنٹ موجود ہے اور نہ ہی کوئی فرسودہ سیاسی نظام اصلاحات کی راہ میں حائل ہے، اس لیے وہاں نتائج دینا نسبتاً آسان ہونا چاہیے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر اداروں میں بہتری اور نظام کی اصلاح کی بات کی جا رہی ہے تو اس کا عملی مظاہرہ ایسے اداروں سے ہونا چاہیے جہاں مکمل اختیار موجود ہو تاکہ عوام خصوصاً کرکٹ شائقین کو بھی بہتری کے واضح نتائج نظر آئیں۔
اسلام آباد:مسلم لیگ ن کے رہنماءاور وزیر دفاع خواجہ آصف نے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سسٹم ہر وقت ارتقا (Evolve) کے عمل سے گزرتے رہتے ہیں اور ایسا ہونا بھی چاہیے۔
تاہم اگر عملی تبدیلی لانی ہے تو اس کا آغاز پاکستان کرکٹ بورڈ سے کیا جائے، کیونکہ کرکٹ شائقین پی سی بی کی موجودہ کارکردگی سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ بطور مثال پاکستان کرکٹ بورڈ میں کوئی حقیقی انقلاب لا کر دکھایا جائے، کیونکہ وہاں تمام اختیارات ایک ہی انتظامیہ کے پاس موجود ہیں اور کسی قسم کی سیاسی یا انتظامی رکاوٹ بھی درپیش نہیں۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ پی سی بی میں نہ کوئی وزیراعظم رکاوٹ ہے، نہ پارلیمنٹ موجود ہے اور نہ ہی کوئی فرسودہ سیاسی نظام اصلاحات کی راہ میں حائل ہے، اس لیے وہاں نتائج دینا نسبتاً آسان ہونا چاہیے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر اداروں میں بہتری اور نظام کی اصلاح کی بات کی جا رہی ہے تو اس کا عملی مظاہرہ ایسے اداروں سے ہونا چاہیے جہاں مکمل اختیار موجود ہو تاکہ عوام خصوصاً کرکٹ شائقین کو بھی بہتری کے واضح نتائج نظر آئیں۔