خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں تودے گرنے کا خطرہ، بڑا الرٹ جاری
اسلام آباد: خیبر پختونخوا لینڈ سلائیڈنگ الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق 19 سے 22 اگست 2026 کے دوران صوبے کے حساس پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
این ڈی ایم اے نے مالاکنڈ، لوئر دیر، اپر دیر، شانگلہ، سوات، بٹگرام، آلائی، اپر چترال، لوئر چترال، اپر کوہستان، لوئر کوہستان، کولائی پالس، مانسہرہ اور گلیات کے پہاڑی علاقوں کو حساس قرار دیا ہے۔
الرٹ کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ، اچانک پتھر گرنے اور ملبے کے بہاؤ کے باعث پہاڑی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوسکتی ہے جبکہ بعض مقامات پر سڑکیں عارضی یا طویل مدت کے لیے بند ہونے کا خدشہ بھی ہے۔
اہم شاہراہوں پر بھی خطرہ
این ڈی ایم اے نے این-45 بٹ خیلہ، چکدرہ، دیر، متکنی روڈ، ایس-4 اے، ایس-16، این-90 اور این-95 کے مختلف حصوں کو حساس قرار دیا ہے۔ مینگورہ، مدین، بحرین، کالام، آلائی، پوکل اور گنگوال روڈز پر بھی لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔
اسی طرح چترال، بونی، مستوج، دروش، لواری، چترال اور گرم چشمہ روڈ کے علاوہ قراقرم ہائی وے کے داسو، کومیلہ، سیو، پٹن، دوبیر، جیجل، پالس اور کولائی سے ملحقہ راستوں پر بھی احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے۔
این-15 بالاکوٹ، کاغان، ناران، ایبٹ آباد، گلیات اور تھنڈیانی روڈز کو بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر حساس قرار دیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی اقدامات کی ہدایت
این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو حساس پہاڑی ڈھلوانوں کی مسلسل نگرانی کرنے اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ٹیمیں تیار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ ضروری مشینری، ریسکیو وسائل اور متبادل انتظامات بھی پہلے سے یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا لینڈ سلائیڈنگ الرٹ کے پیش نظر شہریوں اور مسافروں کو غیر ضروری پہاڑی سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ مسافروں سے کہا گیا ہے کہ سفر شروع کرنے سے پہلے موسم اور سڑکوں کی تازہ صورتحال معلوم کریں اور انتظامیہ کی جانب سے بند کی گئی سڑکوں پر سفر نہ کریں۔
این ڈی ایم اے نے مزید ہدایت کی ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ، پتھر گرنے یا ملبے کے بہاؤ کی صورت میں متاثرہ مقام سے فوری طور پر محفوظ فاصلے پر چلے جائیں اور ریسکیو و انتظامی اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔