امریکا میں 40 برس قبل چوری کی گئی کتاب دکاندار کو واپس مل گئی
امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک کتابوں کی دکان کو تقریباً 40 برس قبل چوری کی گئی کتاب اچانک واپس مل گئی۔ کتاب واپس کرنے والے شخص نے اپنی پرانی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معذرت خواہانہ خط کے ساتھ 100 ڈالر بھی پارسل میں بھیج دیے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ غیر معمولی واقعہ کیلیفورنیا کے شہر یوریکا میں پیش آیا، جہاں واقع کتابوں کی دکان بک لیگر کو حال ہی میں ایک پارسل موصول ہوا۔ دکان کے منتظمین نے جب پارسل کھولا تو اس میں ایڈورڈ گوری کی کتاب ’’دی ان اسٹرَنگ ہارپ‘‘ موجود تھی، جس کے ساتھ ایک خط اور رقم بھی رکھی گئی تھی۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق خط میں بھیجنے والے شخص نے بتایا کہ اس نے یہ کتاب تقریباً 4 دہائیاں قبل اس وقت دکان سے چرائی تھی جب وہ ہمبولڈٹ اسٹیٹ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا۔ اس نے اپنی ماضی کی حرکت کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اس دور میں وہ منشیات اور شراب کی لت میں مبتلا تھا اور مالی مشکلات کے باعث اس نے کتاب چوری کرنے کا فیصلہ کیا۔
شخص کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ اس کی زندگی میں نمایاں تبدیلی آئی اور وہ اپنی سابقہ عادتوں سے باہر نکل آیا، تاہم کتاب چوری کرنے کا واقعہ اسے مسلسل یاد رہا۔ اس نے خط میں اپنی اس حرکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دکان سے معافی بھی مانگی۔
خط میں شخص نے لکھا کہ کئی دہائیاں گزرنے کے بعد اسے یہ کتاب اپنے گھر کے گیراج میں رکھے ایک ڈبے سے دوبارہ ملی۔ کتاب دیکھنے کے بعد اسے اپنے ماضی کی وہ غلطی یاد آگئی اور اس نے فیصلہ کیا کہ کتاب کو اصل دکان تک پہنچایا جائے۔
اس شخص نے صرف کتاب واپس کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی معذرت اور تلافی کے طور پر پارسل میں 100 امریکی ڈالر بھی شامل کیے۔ اس کا مقصد کئی برس پرانی چوری پر اپنی ندامت کا اظہار کرنا اور دکان کو کسی حد تک ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنا تھا۔
کتابوں کی دکان نے اس غیر معمولی واقعے کو سماجی رابطوں کے ذریعے عوام کے ساتھ بھی شیئر کیا۔ دکان کی جانب سے بتایا گیا کہ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود کسی شخص کا اپنی پرانی غلطی تسلیم کرکے کتاب واپس کرنا اور معذرت کے ساتھ رقم بھیجنا ایک غیر معمولی اور متاثر کن واقعہ ہے۔
دکان کے لیے یہ پارسل محض ایک پرانی کتاب کی واپسی نہیں بلکہ اس بات کی ایک منفرد مثال بھی بن گیا کہ انسان برسوں بعد بھی اپنی غلطیوں کا احساس کرکے ان کی تلافی کی کوشش کرسکتا ہے۔