|

بدخشاں میں بڑھتی کشیدگی، افغان طالبان نے کان کنی کی سرگرمیاں معطل کر دیں

کابل: افغان طالبان نے صوبہ بدخشاں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، غیر قانونی کان کنی اور اندرونی اختلافات کے پیش نظر بعض کانوں میں کان کنی کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔

 طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ نئے قواعد و ضوابط کی تیاری تک متعلقہ کانوں میں کام بند رہے گا جبکہ اس فیصلے کے بعد مقامی سطح پر سیاسی، معاشی اور انتظامی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت کو مختلف علاقوں سے غیر قانونی کان کنی اور معدنی وسائل پر قبضے کی متعدد شکایات موصول ہوئی تھیں، جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ نئے ضابطوں کی منظوری تک بعض کانوں میں تمام سرگرمیاں عارضی طور پر روک دی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت کا مقصد معدنی وسائل کے شعبے کو قانون کے مطابق منظم کرنا، غیر قانونی سرگرمیوں کا خاتمہ کرنا اور قومی وسائل کو ریاستی نگرانی میں لانا ہے تاکہ ان سے حاصل ہونے والی آمدن کو ملکی مفاد میں استعمال کیا جا سکے۔

افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق اس فیصلے سے قبل طالبان کے سپریم لیڈر کی جانب سے غیر قانونی کان کنی بند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے، ان احکامات نے بعض مقامی طالبان کمانڈروں کے معاشی مفادات کو براہِ راست متاثر کیا، جس کے نتیجے میں طالبان قیادت کے اندر اختلافات اور کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹس کے مطابق صوبہ بدخشاں میں معدنی وسائل اور کانوں کا کنٹرول مقامی طالبان شخصیات اور مرکزی قیادت کے درمیان ایک اہم تنازع کی صورت اختیار کر چکا ہے،معدنیات سے حاصل ہونے والی آمدن اور کانوں کے انتظامی اختیارات پر اختلافات کے باعث کئی معاملات مرکزی قیادت تک پہنچے۔

افغان میڈیا کے مطابق کان کنی پر پابندی کے بعد مرکزی قیادت سے اختلاف رکھنے والے مقامی طالبان کمانڈر جمعہ خان فاتح اور طالبان کی اعلیٰ قیادت کے درمیان کئی ہفتوں تک کشیدگی برقرار رہی، صورتحال اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ دونوں فریق ممکنہ مسلح تصادم کی تیاری بھی کر رہے تھے، قیادت کی مداخلت سے حالات کو مزید بگڑنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔

دوسری جانب کانوں کی بندش سے بدخشاں میں مقامی معیشت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ کان کنی سے وابستہ مزدوروں، ورکشاپ مالکان اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ کم آمدنی والے شہریوں کی ورکشاپس اور چھوٹے پیمانے پر کان کنی سے متعلق سرگرمیاں تقریباً 1 ماہ سے بند پڑی ہیں، جس کے باعث سینکڑوں خاندانوں کا روزگار متاثر ہوا ہے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ غریب مزدوروں اور چھوٹے کاروباروں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں جبکہ بااثر شخصیات اور طاقتور حلقوں سے منسلک کان کنی کے منصوبے بلا تعطل جاری ہیں۔ انہوں نے طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ کان کنی کے شعبے میں یکساں پالیسی نافذ کی جائے، مزدوروں کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور نئے قواعد و ضوابط جلد از جلد نافذ کر کے قانونی کان کنی کی سرگرمیاں بحال کی جائیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کا روزگار دوبارہ بحال ہو سکے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *