بہادر آباد ایم کیو ایم مرکز فائرنگ واقعہ: دہشت گردی سمیت سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج
کراچی: شہر قائد کے علاقے بہادر آباد میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے عارضی مرکز پر دو گروپوں کے درمیان تصادم اور فائرنگ کے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے واقعے کی ایف آئی آر میں دہشت گردی، اقدام قتل، ہوائی فائرنگ، بلوہ اور دیگر سنگین دفعات شامل کی ہیں، مقدمے میں تاحال کسی مخصوص گروپ یا فرد کو نامزد نہیں کیا گیا۔
پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور شواہد کی بنیاد پر ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی، بہادر آباد میں تصادم کے دوران فائرنگ اور شدید لڑائی کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں عامر نامی شخص شامل ہے جسے گولی لگی جبکہ اسد اور کاشر لڑائی جھگڑے اور بلوے کے دوران زخمی ہوئے۔
مقدمے کے مطابق واقعے کے وقت اظہر عرف لمبا اور ذیشان حبیب سمیت 20 سے 25 افراد موقع پر موجود تھے، جن کے درمیان تلخ کلامی کے بعد صورتحال کشیدہ ہوئی اور بعد ازاں فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا، دونوں جانب سے ہوائی فائرنگ کی گئی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے اسلحے کی نمائش، ہوائی فائرنگ اور امن و امان خراب کرنے والے اجتماعات کے خلاف پہلے ہی دفعہ 144 نافذ ہے، قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
یاد رہے کہ اتوار کے روز بہادر آباد میں ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی مرکز پر ایک گروپ کا اجلاس جاری تھا کہ دوسرے گروپ نے وہاں پہنچ کر احتجاج کیا، جس کے بعد دونوں گروپوں کے کارکنان کے درمیان تلخ کلامی، ہاتھا پائی اور فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ فائرنگ کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی جبکہ قریبی مارکیٹیں اور دکانیں بھی بند ہوگئیں۔
واقعے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سانحہ بلدیہ کیس میں حال ہی میں بری ہونے والے رحمٰن عرف بھولا کو نارتھ ناظم آباد میں واقع ان کے گھر سے حراست میں لے لیا۔ رحمٰن عرف بھولا کو حراست میں لینے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی، جس میں سادہ لباس اور پولیس یونیفارم میں ملبوس اہلکاروں کے ساتھ خواتین اہلکاروں کو بھی انہیں اپنے ہمراہ لے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق رحمٰن عرف بھولا سے بھی واقعے سے متعلق معلومات حاصل کی جا رہی ہیں، ان کی گرفتاری کی وجوہات اور قانونی حیثیت سے متعلق مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکیں،تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی تصادم کے اصل محرکات اور ذمہ دار افراد کے بارے میں حتمی طور پر بتایا جا سکے گا۔