مردان: بھائی کے قتل کا بدلہ؟ پولیس اہلکار نے گرفتار ملزم کو ایس پی آفس کے باہر مار ڈالا
مردان میں ایک پولیس اہلکار نے اپنے بھائی کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزم کو ایس پی انویسٹی گیشن کے دفتر کے باہر فائرنگ کرکے قتل کردیا۔
پولیس کے مطابق مقتول ملزم کو اپنے بھائی کے قتل کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا اور گرفتاری کے بعد اسے ایس پی انویسٹی گیشن کے دفتر لایا گیا تھا، جہاں وہاں موجود ایک پولیس اہلکار نے اس پر فائرنگ کردی۔
فائرنگ کے نتیجے میں ملزم موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ واقعے کے بعد پولیس اہلکار نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا، جبکہ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم پر الزام تھا کہ اس نے دو روز قبل 18 سالہ نوجوان کو فائرنگ کرکے قتل کیا تھا۔ مقتول نوجوان پولیس اہلکار کا بھائی بتایا جاتا ہے، جس کے قتل کے بعد ملزم کو گرفتار کیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق قاتل کو گرفتار کرنے کے بعد قانونی کارروائی اور تفتیش کے سلسلے میں ایس پی انویسٹی گیشن کے دفتر لایا گیا۔ اسی دوران وہاں موجود پولیس اہلکار نے مبینہ طور پر ملزم کو نشانہ بنایا۔
واقعے کے فوراً بعد پولیس نے جائے وقوعہ کو محفوظ کرلیا اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کردیا۔ پولیس اہلکار سے بھی واقعے کے حوالے سے تفتیش کی جارہی ہے تاکہ فائرنگ کی اصل وجہ اور حالات سامنے آسکیں۔ڈی پی او مردان مسعود احمد نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس پی انویسٹی گیشن کے دفتر میں موجود دیگر پولیس اہلکاروں کو غفلت برتنے پر معطل کردیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم پولیس کی حراست میں تھا، اس لیے اس کی حفاظت اور نگرانی کی ذمہ داری اہلکاروں پر عائد ہوتی تھی۔ واقعے میں سکیورٹی انتظامات اور اہلکاروں کی غفلت سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکار کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یاد رہے کہ دو روز قبل 18 سالہ نوجوان کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ پولیس نے واقعے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے قاتل کو گرفتار کیا تھا، جس نے بعد ازاں خود کو پولیس کے حوالے کردیا تھا۔
گرفتاری کے بعد پولیس دفتر کے باہر پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔