مشرق وسطی میں
| |

مشرق وسطیٰ میں امریکی بحری طاقت میں اضافہ، جارج واشنگٹن جہاز کی آمد

واشنگٹن: امریکا نے خطے میں جاری کشیدگی کے دوران اپنے جنگی اثاثوں کی نقل و حرکت بڑھاتے ہوئے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مشرق وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔  

خبر رساں اداروں کے مطابق یہ نیا بحری جہاز خطے میں پہلے سے موجود یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جگہ لے گا۔ ابراہم لنکن ایران کے ساتھ جاری کشیدہ صورتحال کے تناظر میں گزشتہ 8 ماہ سے زائد عرصے سے سمندر میں تعینات ہے، جہاں اس نے مسلسل آپریشنل فرائض انجام دیے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق یو ایس ایس جارج واشنگٹن کی روانگی کا منصوبہ پہلے سے طے شدہ تھا، تاہم اس کا نفاذ موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال میں انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ یہ تبدیلی امریکی بحری عملے پر پڑنے والے طویل مدتی دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

یو ایس ایس ابراہم لنکن لگ بھگ 200 دنوں سے کسی بندرگاہ پر لنگر انداز نہیں ہوا ہے۔ بحری قوانین کے مطابق طیارہ بردار جہازوں کو معمول کے مطابق ہر ڈیڑھ ماہ بعد آرام کی ضرورت ہوتی ہے، مگر مشرق وسطیٰ کی ہنگامی صورتحال نے اس وقفے کو غیر معمولی طور پر طویل کر دیا ہے۔

جارج واشنگٹن اس وقت بحر ہند سے گزرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس سے قبل یہ جہاز مغربی بحرالکاہل میں سرگرم تھا اور ویتنام کا دورہ کرنے کے بعد آبنائے ملاکا سے ہوتا ہوا اپنی نئی منزل کی جانب گامزن ہے۔

اس تعیناتی سے امریکی بحریہ کو خطے میں تسلسل برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

واضح رہے کہ طیارہ بردار جہاز امریکی عسکری طاقت کی علامت سمجھے جاتے ہیں، جن پر جدید ترین جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹرز موجود ہوتے ہیں۔ یہ جہاز سمندر میں تیرتے ہوئے موبائل ایئر بیس کا کام کرتے ہیں، جو طویل فاصلے تک امریکی فضائی آپریشنز کی نگرانی کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

موجودہ وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے، جارج واشنگٹن کی شمولیت عسکری اعتبار سے اہم ہے۔ اس پیش قدمی کو خطے کی بدلتی ہوئی فوجی صورتحال کے تناظر میں امریکا کی جانب سے طاقت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *