موجودہ الیکشن میں عوامی رائے سے حکومتیں نہیں بنیں، حافظ نعیم الرحمٰن
کراچی(جانوڈاٹ پی کے) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ موجودہ انتخابی نظام کے نتیجے میں عوام کی رائے کے مطابق حکومتیں تشکیل نہیں پائیں، جس کے باعث ملک میں اعتماد کا بحران پیدا ہوا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جب عوام کی مرضی کے مطابق حکومتیں تشکیل نہیں دی جاتیں تو لوگوں کا نظام پر اعتماد متاثر ہوتا ہے اور اعتماد کا بحران جنم لیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جانب سے بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ موجودہ نظام مؤثر انداز میں نہیں چل رہا، تاہم محض اس بات کا اعتراف کافی نہیں، بلکہ یہ جائزہ لینا ہوگا کہ انتخابی عمل میں عوام کی حقیقی نمائندگی کیسے یقینی بنائی جاسکتی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ موجودہ نظام کا مسئلہ صرف ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ اس کے کئی پہلو ہیں۔ ان کے مطابق اس نظام میں عام آدمی کی مؤثر شمولیت نظر نہیں آتی اور محض معمولی تبدیلیوں سے بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے زور دیا کہ نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے اور اس کا مؤثر حل یہی ہے کہ آئین کو مقدم رکھتے ہوئے ریاستی و سیاسی معاملات آگے بڑھائے جائیں۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی اس معاہدے کا خیرمقدم کرتی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ معاہدے کے اگلے مرحلے میں ایران، قطر اور بنگلادیش کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ صرف دفاعی تعاون تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس میں معاشی تعاون کو بھی شامل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مکہ دفاعی اتحاد کو اسرائیل کے خلاف واضح اور مضبوط مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
غزہ کی صورتحال پر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ وہاں مسلسل انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، جبکہ ان کے بقول امریکا اسرائیل کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔