بجلی صارفین پر 41 ارب روپے کا نیا اضافی بوجھ ڈالنے کی تیاری
اسلام آباد: سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے ملک بھر میں بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کے لیے نیپرا میں باضابطہ درخواست جمع کروا دی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق اس درخواست میں جولائی کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 2 روپے 52 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست کے مطابق جولائی کے مہینے میں بجلی کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ درآمدی ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت 47 روپے 37 پیسے رہی جبکہ فرنس آئل سے بننے والی بجلی کی لاگت 50 روپے تک پہنچ گئی۔
سی سی پی اے نے مزید کہا کہ جولائی میں ڈیزل کا استعمال بھی کیا گیا جس کی فی یونٹ لاگت 54 روپے 47 پیسے ریکارڈ کی گئی، جبکہ پانی، کوئلہ اور نیوکلیئر ذرائع سے بھی بجلی کی پیداوار جاری رہی جس کے ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
نیپرا نے اس درخواست پر سماعت کے لیے 27 اگست کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ درخواست منظور کر لی جاتی ہے تو جی ایس ٹی سمیت ملک بھر کے بجلی صارفین پر 41 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑے گا جو پہلے سے مہنگائی کے مارے عوام کے لیے ایک اور بڑا جھٹکا ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ایندھن کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث بجلی کی پیداواری لاگت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ نیپرا اتھارٹی سماعت کے دوران اس بات کا جائزہ لے گی کہ کیا سی سی پی اے کی جانب سے مانگی گئی قیمتوں کا تعین حقائق کے مطابق ہے یا اس میں مزید کمی کی گنجائش موجود ہے۔
واضح رہے کہ بجلی اور پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے نے عوام میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ صارفین پہلے ہی شدید مہنگائی ، بھاری بجلی بلوں اور پیٹرول کے نرخوں کی وجہ سے شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ اب اس ممکنہ اضافے کے بعد عام آدمی کا ماہانہ بجٹ بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔