میر رضا قتل
|

میر رضا قتل کیس: 13 دن بعد محسوس ہورہا ہے تحقیقات درست سمت میں ہیں، والد کا ٹیم پر اعتماد

کراچی: تاجر میر رضا کی موت کے معاملے میں نئی تفتیشی ٹیم نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے والدین اور کیس کے وکیل جبران ناصر کے ہمراہ جائے وقوعہ کا دورہ کیا، جہاں واقعے سے متعلق مختلف مقامات اور اہم شواہد کا جائزہ لیا گیا۔

جائے وقوعہ کے دورے کے بعد میر رضا کے والد میر حسین نے نئی تفتیشی ٹیم کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 13 دن بعد پہلی مرتبہ محسوس ہورہا ہے کہ تحقیقات درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں،اگر کیس کے آغاز ہی میں مؤثر اور جامع تحقیقات کی جاتیں تو آج معاملہ کسی مختلف مرحلے پر ہوتا، اب بھی یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ میر رضا کے ساتھ اصل میں کیا ہوا اور ان کی موت کن حالات میں پیش آئی۔

میر رضا کے والد نے کہا کہ نئی تفتیشی ٹیم خاندان کی تمام باتیں سن رہی ہے اور انہیں اس ٹیم پر اعتماد ہے،خاندان انصاف کے حصول کے لیے ہر ممکن حد تک جائے گا اور اس وقت بنیادی مقصد یہی ہے کہ حقیقت سامنے لائی جائے کہ واقعہ کس طرح پیش آیا۔

میر حسین نے بتایا کہ میر رضا کا کچن واقعے کے مقام سے تقریباً آدھا کلومیٹر دور تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کیس کے حوالے سے 3 مشکوک افراد سے متعلق معلومات پولیس کو پہلے ہی فراہم کی جاچکی ہیں اور خاندان نے تفتیشی حکام کے ساتھ دستیاب معلومات شیئر کی ہیں۔

انہوں نے سابق تفتیشی ٹیم کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سابق ٹیم نے خاندان کے ساتھ تحقیقات شیئر نہیں کیں اور انہیں تفتیش میں ہونے والی پیش رفت سے مناسب طور پر آگاہ نہیں کیا گیا، نئی تفتیشی ٹیم کیس کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کرے گی اور اسے منطقی انجام تک پہنچائے گی۔

اس موقع پر کیس کے وکیل جبران ناصر نے بھی تحقیقات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میر رضا کے خاندان نے اپنی مدد آپ کے تحت مختلف مقامات کی نشاندہی کی اور یہ اہم مقامات پولیس کو دکھائے گئے تاکہ تفتیشی ٹیم واقعے کی مکمل صورتحال کو سمجھ سکے۔

جبران ناصر کے مطابق میر رضا کے والدین تحقیقات کے دوران پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں اور تفتیشی ٹیم کی جانب سے پوچھے جانے والے ہر سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں، خاندان کی کوشش ہے کہ واقعے سے متعلق تمام ممکنہ شواہد تفتیشی اداروں تک پہنچائے جائیں۔

وکیل کے مطابق میر رضا کی قبر کشائی کے بعد حاصل کیے گئے نمونے فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں اور اب ان نمونوں کی رپورٹس کا انتظار کیا جارہا ہے، پوسٹ مارٹم کے دوران حاصل کیے گئے نمونے بھی فرانزک تجزیے کے لیے بھیجے گئے ہیں، جن کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد میر رضا کی موت کے حوالے سے مزید اہم معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔

کیس کی تحقیقات میں فرانزک شواہد کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ تفتیشی ٹیم جائے وقوعہ کے معائنے کے ساتھ ساتھ پوسٹ مارٹم، قبر کشائی اور فرانزک لیبارٹری سے حاصل ہونے والی رپورٹس کا بھی جائزہ لے رہی ہے تاکہ میر رضا کی موت کے حالات سے متعلق مختلف سوالات کے جوابات تلاش کیے جاسکیں۔

خاندان کا مؤقف ہے کہ اب تک واقعے کے بنیادی حقائق مکمل طور پر واضح نہیں ہوسکے، اسی لیے وہ نئی تفتیشی ٹیم سے شفاف اور جامع تحقیقات کی توقع کررہا ہے۔

میر حسین نے واضح کیا کہ خاندان کا مقصد کسی پر الزام عائد کرنا نہیں بلکہ اصل حقیقت تک پہنچنا ہے، جب تک یہ معلوم نہیں ہوجاتا کہ میر رضا کے ساتھ واقعے کے وقت کیا ہوا، تحقیقات مکمل نہیں سمجھی جاسکتیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *