ناقص انٹیلی جنس کے باعث امریکا طویل عرصے سے غلط فیصلے کرتا رہا ہے: ایرانی وزیر خارجہ
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ واشنگٹن طویل عرصے سے ناقص انٹیلی جنس اور غلط معلومات کی بنیاد پر غلط اندازے لگاتا اور فیصلے کرتا آرہا ہے، ایران کے خلاف موجودہ جنگ کے معاملے میں بھی امریکی اندازے درست ثابت نہیں ہوئے جبکہ اب آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی امریکا ایک بڑی غلطی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی پالیسی سازوں نے ماضی میں ناقص انٹیلی جنس کی بنیاد پر متعدد مرتبہ غلط نتائج اخذ کیے اور انہی اندازوں کی روشنی میں فیصلے کیے، موجودہ ایران جنگ بھی اس امر کی ایک مثال ہے کہ غلط معلومات پر انحصار کرنے کے نتائج کس قدر سنگین ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ جعلی خبروں سے کہیں زیادہ خطرناک جعلی انٹیلی جنس ہوسکتی ہے، اس لیے اس معاملے میں انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے، اگر کسی حساس معاملے سے متعلق معلومات درست نہ ہوں اور انہی کی بنیاد پر حکمت عملی تشکیل دی جائے تو اس کے نتیجے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے خصوصی طور پر آبنائے ہرمز کا حوالہ دیتے ہوئے امریکا کو خبردار کیا کہ واشنگٹن اس معاملے میں اس سے بھی بڑی غلطی کررہا ہے۔
انہوں نے بالواسطہ طور پر واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق غلط معلومات یا غیر درست اندازوں کی بنیاد پر کیے جانے والے فیصلے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان کے اختتام پر مذہبی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ سب سے بڑا ہے اور زمین پر موجود ہر طاقت سے بڑھ کر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اللہ ہی پر بھروسا کرتا ہے۔