پیٹرولیم لیوی کی مد میں حکومت کی ریکارڈ 1567 ارب روپے کی وصولی
اسلام آباد: پیٹرولیم لیوی کی مد میں حکومت نے مالی سال 26-2025 کے دوران 1567 ارب 45 کروڑ روپے کی ریکارڈ وصولی کر لی ہے جو کہ حکومتی اہداف سے کہیں زیادہ ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم لیوی کی یہ رقم مقرر کردہ 1468 ارب روپے کے ہدف سے تقریباً 100 ارب روپے زیادہ ہے۔ یہ وصولی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کی جانب سے لگائے گئے 1546 ارب روپے کے تخمینے سے بھی بڑھ گئی ہے۔
قومی خزانے میں جمع ہونے والی اس خطیر رقم کے علاوہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی مد میں بھی 50 ارب 16 کروڑ روپے الگ سے حاصل کیے گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافی آمدنی حکومت کے لیے مالیاتی خسارے کو کم کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
گزشتہ مالی سال کے اعداد و شمار کا موازنہ کیا جائے تو لیوی کی وصولی میں 347 ارب 24 کروڑ روپے کا زبردست اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ برسوں میں لیوی کی مد میں 1220 ارب، 1019 ارب اور 580 ارب روپے جمع کیے گئے تھے جو کہ اب کافی بڑھ چکے ہیں۔
موجودہ ٹیکس نظام کے تحت پیٹرول پر 80 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 77 روپے 28 پیسے فی لیٹر کے حساب سے لیوی عائد کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ پیٹرول اور ڈیزل دونوں پر 5، 5 روپے فی لیٹر کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی وصولی بھی جاری ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد یہ بھاری لیوی جہاں حکومتی آمدنی میں اضافے کا باعث بن رہی ہے، وہیں اس کا بوجھ براہ راست صارفین پر پڑ رہا ہے۔
تاہم حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ناگزیر اور انتہائی ضروری ہیں۔