نظام پر سوال اٹھانے والوں کو ماضی یاد رکھنا چاہیے، رانا ثنا کی محسن نقوی پر تنقید
مظفرآباد: وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے سسٹم اور نئے انتظامی یونٹس سے متعلق بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس نظام میں انہوں نے 30 سال کا سفر صرف ساڑھے 3 سال میں طے کیا، اب انہیں اچانک احساس ہو رہا ہے کہ سسٹم خراب ہے۔
آزاد جموں و کشمیر میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ “زرداری کے ایک برخوردار” کہہ رہے ہیں کہ سسٹم ختم ہو چکا ہے اور اب یہ آگے چلنے کے قابل نہیں رہا، اگر واقعی نظام میں خرابی تھی تو اس کا ادراک پہلے کیوں نہیں ہوا۔
انہوں نے محسن نقوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اسی سسٹم میں 30 سال کا سفر 3.5 سال میں طے کیا، آپ کہاں سے چلے اور کہاں پہنچ گئے، اب آپ کو آ کر معلوم ہوا کہ سسٹم ٹھیک نہیں ہے، پاکستان کا پارلیمانی جمہوری نظام قائداعظم محمد علی جناح نے دیا اور سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان حاصل کیا گیا، اس لیے ملک کے آئینی نظام اور جمہوری عمل کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے۔
انہوں نے انتخابی نظام پر ہونے والی تنقید کے حوالے سے کہا کہ اگر کوئی جلسے میں آ کر کہتا ہے کہ وزیراعظم فارم 47 کا ہے تو پھر یہ بھی بتایا جائے کہ صدر کے لیے حاصل کیے گئے ووٹ کس فارم کے تھے،اگر نواز شریف کے بارے میں کہا جائے کہ وہ پہلی بار یا ہمیشہ دھاندلی کے ذریعے وزیراعظم بنے تو پھر ماضی کی سیاسی تاریخ کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔
رانا ثنا نے کہا کہ ملک کے سیاسی نظام پر تنقید کرنے سے پہلے تمام حقائق کو مدنظر رکھنا چاہیے اور جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے آئینی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملکی ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ نظام میں بنیادی مسائل پیدا ہو چکے ہیں اور نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کا قیام ان مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے،بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی مسائل کے باعث نئے انتظامی ڈھانچے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔