ریاستی رٹ چیلنج
|

ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں سے قانون کے مطابق نمٹیں گے، آزاد کشمیر پولیس

مظفرآباد: آزاد کشمیر پولیس کے ترجمان ایس ایس پی خاور علی شوکت نے الزام عائد کیا ہے کہ انتخابات کے دوران تعینات سکیورٹی اہلکاروں پر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے کارندوں کی جانب سے حملے کیے گئے جبکہ ہائی وے پولیس کے 8 اہلکاروں کو مبینہ طور پر اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایس ایس پی خاور علی شوکت نے کہا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے کارندوں نے انتخابی ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا، ہائی وے پولیس کے 8 اہلکاروں کو اغوا کیا اور ان پر تشدد کیا گیا، جبکہ سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

پولیس ترجمان نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی پر احتجاجی مظاہروں کے دوران خواتین کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا، ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور ذمہ دار عناصر کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

ایس ایس پی خاور علی شوکت نے کہا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کی شرانگیزی سب کے سامنے ہے، ریاست پہلے بھی کمزور تھی نہ اب ہے، اگر ریاستی نظام کو مفلوج کرنے کی کوشش کی گئی تو ریاست اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے گی۔

پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ امن و امان کی صورتحال خراب کرنے اور سرکاری اداروں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کے نام پر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا، پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنا یا انہیں یرغمال بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ پولیس اہلکار اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے اور انتخابی عمل کے دوران سکیورٹی کی فراہمی ان کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے۔ اہلکاروں کو اغوا یا تشدد کا نشانہ بنانا قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

ایس ایس پی خاور علی شوکت نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ یرغمال بنائے گئے پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

پولیس ترجمان نے مزید کہا کہ ریاستی ادارے امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے جبکہ قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *