سعودی عرب کا نیا دفاعی معاہدہ سکیورٹی کی ضمانت نہیں، ایرانی رکن پارلیمنٹ کا دعویٰ
تہران: ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے رکن ابراہیم رضائی نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے نئے مشترکہ دفاعی معاہدے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ دفاعی اشتراک سعودی عرب کو مطلوبہ سکیورٹی ضمانت فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
ابراہیم رضائی نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کا پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ کیا گیا معاہدہ محض ایک کاغذی کارروائی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسا دفاعی اتحاد ریاض کی حفاظت کے لیے کافی نہیں ہوگا اور یہ صرف ایک عارضی اقدام ثابت ہوگا۔
ایرانی رہنما نے مزید کہا کہ سعودی عرب طویل عرصے تک امریکہ پر دفاعی انحصار کرتا رہا ہے، لیکن اتنی طویل مدت کے باوجود اسے مکمل تحفظ حاصل نہ ہو سکا۔ اس تاریخی تناظر کو سامنے رکھتے ہوئے سعودی قیادت کو اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں پر نظرثانی کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ سعودی عرب کو سکیورٹی کے معاملات میں دوسرے ممالک پر انحصار کرنے کے بجائے خود انحصاری پر توجہ دینی چاہیے۔ دوسرے ممالک کے ساتھ معاہدوں کے ذریعے تحفظ تلاش کرنے کی پالیسی ماضی میں بھی سودمند ثابت نہیں ہوئی ہے، اس لیے نئی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مابین حالیہ دفاعی تعاون ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی کی صورتحال انتہائی پیچیدہ اور کشیدہ ہے۔ اس معاہدے میں طے پایا ہے کہ کسی بھی رکن ملک پر ہونے والے حملے کو تینوں ممالک پر جارحیت تصور کیا جائے گا۔
اس نوعیت کے دفاعی معاہدے خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم ایرانی قیادت کی جانب سے اس پیش رفت پر تحفظات کا اظہار علاقائی سیاست میں جاری کھینچ تان کی عکاسی کرتا ہے۔ عالمی مبصرین کی نظریں اب اس اتحاد کے عملی نفاذ پر جمی ہوئی ہیں۔